تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 35

ہوتے۔یہ توکوئی بلا ہیں۔یہ تلواروں اورنیزوں کے اوپر سے کودتے ہوئے آتے ہیں۔یہ جرأت مردوں پر ہی موقو ف نہیں۔مجھے تو ایک ماں کی قربانی پر حیرت آتی ہے۔حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں جب عراق میں قادسیہ کے مقام پر جنگ جاری تھی۔توکسریٰ میدان جنگ میں ہاتھی لایا۔اونٹ ہاتھی سے ڈرتاہے اس لئے وہ انہیں دیکھ کر بھاگتے تھے اور اس طرح مسلمانوں کو بہت نقصان ہوااوربہت سے مسلمان مارے گئے۔آخر ایک دن مسلمانوں نے فیصلہ کیا کہ خواہ کچھ ہو آج ہم میدان سے ہٹیں گے نہیں۔جب تک دشمن کو شکست نہ دے لیں۔ایک عورت حضرت خنساء اپنے چا ربیٹوںکولے کر میدان جنگ میںآئیں اوران کو مخاطب کرکے کہنے لگیں کہ پیارے بیٹو!تمہارے باپ نے اپنی زندگی میں ساری جائداد تباہ کردی تھی۔اورمجھے مجبور کیا کہ میں اپنے بھائی سے کہو ں کہ وہ مجھے حصہ دے۔چنانچہ میں اس کے پاس گئی۔اس نے میرابڑا اعزاز کیا۔بڑی دعوت کی اورپھر اپنی جائداد میں سے آدھی مجھے بانٹ دی۔میں و ہ لے کرچلی گئی۔توتمہارے باپ سے میں نے کہا۔کہ اب تو آرام سے گذارہ کرو۔مگر اس نے پھر اسے بھی برباد کردیا۔اورپھر مجبور کرکے میرے بھائی کے پاس مجھے بھیجا۔پھر میں اس کے پاس گئی۔اس نے پھر میرابڑااعزازواحترام کیا۔اورپھر بقیہ میں سے مجھے آدھی جائیداد بانٹ دی مگر وہ بھی تمہارے باپ نے برباد کردی اور پھر مجھے مجبور کیا کہ اپنے بھائی سے جاکر حصہ لوں۔چنانچہ میں پھر بھائی کے پاس گئی اوراس نے پھر بقیہ جائداد بانٹ دی مگر وہ بھی تمہارے باپ نے برباد کردی اورجب تمہاراباپ مراتواس نے کوئی جائیداد نہ چھوڑی۔میں اس وقت جوان تھی۔تمہارے باپ کی کوئی جائیداد نہ تھی۔پھر اپنی زندگی میں اس نے میرے ساتھ کو ئی حسن سلوک بھی نہ کیا تھا۔اوراگر عرب کے رسم و رواج کے مطابق میں بدکارہوجاتی توکوئی اعتراض کی بات نہ تھی۔مگر میں نے اپنی تمام عمر نیکی سے گذاری اب کل فیصلہ کن جنگ ہونے والی ہے۔میرے تم پر بہت سے حقوق ہیں۔کل کفر او ر اسلام میں مقابلہ ہوگا اگرتم فتح حاصل کئے بغیر واپس آئے۔تومیں خدا تعالیٰ کے حضورکہوں گی کہ میں ان کو اپناکوئی بھی حق نہیں بخشتی۔اس طر ح اس نے اپنے چاروں بیٹوںکو جنگ میں تیار کرکے بھیج دیا۔اورپھر گھبراکر خود جنگل میں چلی گئی اوروہاں تنہائی میں سجدہ میں گرکر اورروروکر اللہ تعالی سے دعائیں مانگنے لگی۔اوردعایہ کی کہ اے میرے خدا میں نے اپنے چاروں بیٹوں کو دین کی خاطر مرنے کے لئے بھیج دیاہے لیکن تجھ میںیہ طاقت ہے کہ ان کو زندہ واپس لے آئے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ مسلمانوں کو فتح بھی ہوگئی اوراس کے چاروں بیٹے بھی زندہ واپس آگئے (طبری والاستیعاب باب النساء و کناھن باب الخاء خنساء بنت عمرو السلمیة)۔یہ جرأت او ر بہادری ایمان بالآخرۃ ہی کا نتیجہ تھی۔یہ لوگ سمجھتے تھے کہ دنیا کی نجات اسلام سے وابستہ ہے اورہم خواہ مارے بھی