تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 377
وہ آگ ٹھنڈی ہوگئی۔اوریہ معجزہ دیکھ کر<mark>اس</mark> کی قوم کے بعض <mark>لو</mark>گوں کے د<mark>لو</mark>ں میں ایمان پیداہوگیااور<mark>اس</mark> کے لئے سلامتی کے سامان پیداہوگئے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ ابتداء میں <mark>اس</mark> آیت کے یہ معنے کیاکرتے تھے کہ <mark>خدا</mark> <mark>تعالیٰ</mark> نے ان کی مخالفت کی آگ کو ٹھنڈاکردیاتھا۔مجھے یاد ہے ۱۹۰۳ء میں جب ایک شخص عبدالغفور نے جو<mark>اس</mark>لام سے مرتد ہوکر آریہ ہوگیاتھا اور <mark>اس</mark> نے اپنا نام دھرم پال رکھ لیاتھا ’’ترک <mark>اس</mark>لام‘‘ نامی کتاب لکھی۔توحضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے <mark>اس</mark> کا جواب لکھا۔جو’’نور الدین‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔یہ کتاب روزانہ حضرت مسیح موعود علیہ الص<mark>لو</mark>ۃ والسلام کو سنائی جاتی تھی۔جب دھرم پال کایہ اعتراض آیا کہ اگرحضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے آگ ٹھنڈی ہوئی تھی تودوسروں کے لئے کیوں نہیں ہوتی۔اور<mark>اس</mark> پر حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کایہ جواب سنایاگیا کہ <mark>اس</mark> جگہ ’’نار ‘‘ سے ظاہری آگ مراد نہیں بلکہ مخالفت کی آگ مراد ہے توحضرت مسیح موعود علیہ الص<mark>لو</mark>ٰ ۃ والسلام نے فرمایاکہ <mark>اس</mark> تاویل کی کیا ضرورت ہے۔مجھے بھی <mark>خدا</mark> <mark>تعالیٰ</mark> نے ابراہیم کہا ہے اگر <mark>لو</mark>گوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے آگ کس <mark>طرح</mark> ٹھنڈی ہوئی تووہ مجھے آگ میں <mark>ڈال</mark> کردیکھ لیں کہ آیامیں <mark>اس</mark> آگ میں سے سلامتی کے ساتھ نکل آتاہوں یانہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الص<mark>لو</mark>ٰۃ والسلام کے <mark>اس</mark> ارشاد کی وجہ سے حضر ت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے اپنی کتاب ’’نورالدین‘‘ میں یہی جواب لکھا اورتحریر فرمایاکہ ’’تم <mark>ہمارے</mark> <mark>امام</mark> کو آگ میں <mark>ڈال</mark> کردیکھ <mark>لو</mark>۔<mark>یقیناً</mark> <mark>خدا</mark> <mark>تعالیٰ</mark> <mark>اپنے</mark> <mark>وعدہ</mark> کے مطابق <mark><mark>اس</mark>ے</mark> <mark>اس</mark> آگ سے <mark>اس</mark>ی <mark>طرح</mark> <mark>محفوظ</mark> <mark>رکھے</mark> گاجس <mark>طرح</mark> ا س نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو<mark>محفوظ</mark> رکھاتھا۔‘‘ (نورالدین صفحہ ۴۶) اورپھر حضرت مسیح موعود علیہ الص<mark>لو</mark>ٰۃ والسلام کی <mark>اس</mark> جر ح کی وجہ سے ہی میں نے جہاں کہیں قرآن کریم کی <mark>اس</mark> آیت کی تفسیر کی ہے میں نے یہ نہیں لکھا کہ <mark>خدا</mark> <mark>تعالیٰ</mark> نے مخالفت کی آگ کو ٹھنڈاکردیاتھابلکہ یہی لکھا ہے کہ مخالفوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں <mark>ڈال</mark>اتھالیکن وہ آگ ٹھنڈی ہوگئی اور چونکہ اللہ <mark>تعالیٰ</mark> دنیا میں <mark>اس</mark>باب سے ہی کام لیاکرتاہے۔<mark>اس</mark> لئے ممکن ہے <mark>اس</mark> وقت بادل آگیاہو۔اوربارش ہوگئی ہو جس کی وجہ سے آگ بجھ گئی ہو۔بہرحال ہماراایمان یہی ہے کہ دشمنوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے واقعہ میں آگ جلائی لیکن اللہ <mark>تعالیٰ</mark> نے ایسے سامان پیداکئے کہ جن کی وجہ سے ان کی تدبیر کارگرنہ ہوئی اورآپ آگ سے <mark>محفوظ</mark> رہے۔