تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 372
برابربھی کوئی عمل ہوگا توہم اس کو موجود کردیں گے اورہم حساب لینے میں کافی ہیں۔اسی طرح فرماتا ہے۔وَ الْوَزْنُ يَوْمَىِٕذِ ا۟لْحَقُّ١ۚ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِيْنُهٗ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۔وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُهٗ فَاُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَظْلِمُوْنَ۔(الاعراف : ۹،۱۰) یعنی اس دن تمام اعمال کاوزن کرناایک ثابت شدہ حقیقت ہے۔جس کے وزن بھاری ہوئے وہ لوگ بامراد لوگوں میں شامل ہوںگے اورجن کے وزن ہلکے ہوئے تو سمجھ لو کہ ایسے لوگ اپنی جانوں کے معاملہ میں خسارہ پانے والے ہیں۔یہ اس لئے ہواکہ وہ ہماری آیتوں کے معاملہ میں ظلم سے کام لیتے تھے۔پھر فرماتا ہے۔اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ(النساء : ۴۱) اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ایک ذرہ بھر بھی ظلم نہیں کرتا۔اسی طرح فرماتا ہے۔اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ النَّاسَ شَيْـًٔا وَّ لٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ(یونس :۴۵)یعنی اللہ تعالیٰ کی شان یقیناًایسی ہے کہ وہ لوگوں پر کچھ بھی ظلم نہیں کرتا۔ہاں لوگ اپنی جانوں پر آپ ہی ظلم کرتے ہیں۔پھر یہ سوال اس لئے بھی باطل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ اصول بیان فرما دیاہے کہ ہرانسان کے ساتھ جوکچھ سلوک ہوگا کے عمل کے مطابق ہوگا۔چنانچہ فرماتا ہے۔لَيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى۔وَ اَنَّ سَعْيَهٗ سَوْفَ يُرٰى۔ثُمَّ يُجْزٰىهُ الْجَزَآءَ الْاَوْفٰى ( النجم : ۴۰تا۴۲)کہ انسان کو وہی کچھ ملتاہے جس کی وہ کوشش کرتاہے اورانسان ایک دن اپنی کوشش کانتیجہ ضرور دیکھ لے گا اوراس کو اپنے اعمال کی پوری پوری جزاء مل جائے گی۔پھر فرماتا ہے۔فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ۔وَ مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ۔( الزلزال :۸،۹)یعنی جس نے ایک ذرہ کے برابر بھی نیکی کی ہوگی و ہ اس کے نتیجہ کو دیکھ لے گااورجس نے ایک ذرہ کے برابر بھی بدی کی ہوگی وہ اس کے نتیجہ کودیکھ لے گا۔اسی طرح فرماتا ہے۔قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا۔وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَا۔( الشمس : ۱۰،۱۱) یعنی جس نے اپنے نفس کوپاک کیا سمجھو کہ وہ اپنے مقصود کو پاگیا۔اورجس نے اسے مٹی میں گاڑ دیا سمجھ لوکہ وہ نامراد ہوگیا۔ان اصول کی موجود گی میں کسی کو اندھادھند عذاب دینے یاکسی پراندھادھند رحم کرنے کاکوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا۔پس جسے چاہتا ہے عذاب دیتاہے۔اورجسے چاہتاہے بخشتاہے کے یہ معنے نہیں کہ وہ اندھادھند ایساکرتاہے بلکہ جیساکہ اوپر کی آیات سے ثابت ہے جولو گ اپنے اندر خدا تعالیٰ کی محبت کی قابلیت پیداکرتے ہیں ان پر وہ رحم کرتاہے اورجو لوگ اپنے نفسوں میں گند پیداکرتے ہیں ان پرعذاب نازل کرتاہے۔پس اس آیت میں جو مَنْ یَّشَآئُ فرمایا ہے تواس کایہ مطلب نہیں کہ خدا تعالیٰ کاعذاب یارحم بغیر کسی اصول کے نازل ہوتاہے۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ و ہ حالات کے مطابق سلوک کرتاہے۔پس ’’چاہتاہے ‘‘ سے یہ مراد ہے کہ حالات کے مطابق چاہتاہے نہ کہ اندھادھند۔باقی رہایہ سوال کہ اللہ تعالیٰ نے مشیئت کالفظ کیوں استعمال کیا ہے۔