تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 363

یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قو م کو صرف یہی نصیحت نہیں فرمائی کہ اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَوْثَانًاوَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْکًا کہ تم خدا کو چھوڑ کر بتوں کی پرستش کرتے ہو اورخدا تعالیٰ پر ان کے بارہ میں افتراء کرتے ہو۔بلکہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَایَمْلِکُوْنَ لَکُمْ رِزْقًافَابْتَغُوْاعِنْدَ اللّٰہِ الرِّزْقَ وَاعْبُدُوْہُ وَاشْکُرُوْالَہٗ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ۔یعنی وہ ہستیاں جن کی تم اللہ تعالیٰ کے سواپرستش کرتے ہو تمہیں رزق نہیں دے سکتیں۔پس اللہ تعالیٰ سے اپنا رزق مانگو۔اوراس کی عبادت کرو اوراس کاشکراداکرو۔تم کو اسی کی طرف لوٹاکرلے جایا جائے گا۔اس سے ظاہر ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انہیں پانچ امورکی طرف توجہ دلائی تھی۔اول اس امر کی طرف کہ معبودانِ باطلہ جن کی تم پرستش کرتے ہو ان کے متعلق تمہارایہ خیال بالکل غلط ہے کہ وہ تمہاری حاجت روائی کرتے یا مشکلات میں تمہارے کام آتے ہیں۔ان میں نہ توکسی کو ایک ذرّہ بھر نفع پہنچانے کی طاقت ہے اورنہ وہ کسی کو ایک ذرّہ بھر نقصان پہنچاسکتے ہیں۔دوم۔ہرقسم کارزق اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے۔اس لئے تم اسی سے مانگوجوتمام خیر و برکت کا منبع ہے۔اور جس کے ہاتھ میں تمام نعمتوں کے ذخائر ہیں۔سوم۔عبادت بھی اللہ تعالیٰ ہی کی بجالائو۔کسی اَور کو قابل پرستش نہ سمجھو۔چہارم۔ان نعمتوں پر جو خدا تعالیٰ کی طرف سے تمہیں عطا کی گئی ہیںاس کاشکر بجالائو۔اوران کی قدروقیمت کااحساس اپنے اندرپیداکرو۔پنجم۔تم مرنے کے بعد پھر زندہ ہوکر خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے والے ہو اس لئے ایسے اعمال بجالائو جوتمہیںخدا تعالیٰ کی خوشنودی کامستحق بناسکیں۔یہ امو ربتاتے ہیں کہ حضر ت ابراہیم علیہ السلام نے انہیں صرف بتوں کی پرستش سے نہیں روکا بلکہ اس فلسفہ کابھی ردّکیا ہے جو اس بت پرستی کے پیچھے اس زمانہ میں کام کررہاتھا۔اورانہیں بتایاہے کہ پتھرکے بے جان بتوںنے تمہیں کیاد یناہے۔تم اگرکچھ لینا چاہتے ہو تواللہ تعالیٰ سے مانگوجواپنے اندر تمام طاقتیں رکھتاہے۔پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کوصرف یہ نصیحت ہی نہیں کی کہ فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ بلکہ آپ نے اپنا عملی نمونہ ان کے سامنے اس طرح پیش کیاکہ جب آپ کو خدا تعالیٰ نے کہا کہ جااوراپنے بچے اسمٰعیلؑ اوراس کی ماں ہاجرہؑ کوایک وادی غیرذی ذرع میں چھو ڑآتوانہوں نے یہ نہیں سوچاکہ وہاں ان کے کھانے پینے اوررہنے کاکیاانتظام ہوگا۔بلکہ وہ گئے اورہاجرہؑ اوراسمٰعیلؑ کوایک بے آب و گیاہ جنگل میں چھو ڑکرچلے آئے۔کیونکہ انہیں