تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 361

ہے کہ نوح ؑ اوراس کے ماننے والوں کو لوگو ں نے بڑی تکلیف دی۔یہاں تک کہ ان سب کو ایک کشتی کے ذریعہ اپناملک چھوڑنا پڑا۔اوروہ کشتی آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے خدا تعالیٰ کاایک نشان قرار پائی۔چنانچہ آج تک اس کشتی پر بحث ہورہی ہے۔اورمحکمہ آثارِ قدیمہ کے لوگ کبھی اس کشتی کے آثار آرمینیا میں دیکھتے ہیں۔اور کبھی روس میں۔حالانکہ بالکل ممکن ہے کہ چونکہ ہررسول کو دوسرے رسول کاقائمقام قرار دیاجاتاہے۔بہت سے نبیوں کے مخالفین پر نوح ؑ کے زمانہ کے سے عذاب آئے ہوںاور کئی نبیوں کو کشتی کے ذریعہ سے بچناپڑاہو۔جیساکہ حضرت یونسؑ کامشہورواقعہ ہے۔پس ممکن ہے ایک کشتی نہ ہوبلکہ بہت سی کشتیاں ہو ں جواپنے اپنے زمانہ میں خدا تعالیٰ کا نشان بنی ہوں۔جیساکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی مصر چھوڑنا پڑا اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مکہ چھوڑ نا پڑا۔اسی طرح معلوم ہوتاہے مختلف ملک اور مختلف قومیں تھیں جن پر نوح ؑ کے زمانہ کے سے عذاب آئے۔مگربعد کے لوگوں نے غلطی سے سب کوایک سمجھ لیا۔وَ اِبْرٰهِيْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ ذٰلِكُمْ اور(ہم نے )ابراہیم(کوبھی رسول بناکر بھیجاتھا)جب ا س نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ اللہ (تعالیٰ) کی عبادت کرو خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۰۰۱۷ اوراس کا تقویٰ اختیار کرو۔اگرتم جانتے ہو تویہ تمہارے لئے بہت اچھا ہے۔تفسیر۔حضرت نوح علیہ السلام کے بعد اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر فرماتا ہے کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی حضرت نوح علیہ السلام کی امت میں سے ہی تھے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ ایک دوسرے مقام پر اس حقیقت کاان الفاظ میںاظہار فرماتا ہے کہ وَاِنَّ مِنْ شِیْعَتِہٖ لَاِبْرَاھِیْمَ (الصفّٰت : ۸۴)یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت نوح علیہ السلام کے متبعین میں سے تھے۔پس اس مناسبت کی وجہ سے حضرت نوح علیہ السلام کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکرکیاگیا۔اس سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کا زمانہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ تک ممتد ہوا۔پس حضرت نوح علیہ السلام کی ساڑھے نوسوسال کی عمر سے یہ مراد نہیں کہ ان کو ساڑھے نوسوسال کی جسمانی زندگی ملی۔بلکہ مراد یہ ہے کہ ساڑھے نوسوسال تک جوحضرت ابراہیمؑ او رحضرت موسیٰ ؑ تک ممتد ہوتے تھے حضرت نوح ؑ کی تعلیم اورتلقین لوگوں کے لئے مشعل راہ بنی رہی اوراس طرح و ہ روحانی رنگ میں