تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 360
وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِيْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اورہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجاتھا۔پس وہ ا ن میں نوسوپچاس سا ل تک رہا۔سواس کی قو م اِلَّا خَمْسِيْنَ عَامًا١ؕ فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ۰۰۱۵ کے لوگوں کوطوفان نے آلیا اوروہ ظالم تھے۔تفسیر۔اس آیت میں حضرت نوح علیہ السلام کا ذکرکیاگیاہے حالانکہ پہلی آیات میں حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کاکوئی ذکر نہیں بلکہ صرف مسلمانوں کا ذکر ہے اورکہا گیا ہے کہ کیا وہ خیال کرتے ہیں کہ ان کو کسی فتنہ میں نہیں ڈالاجائے گا اوریوں ہی چھوڑ دیاجائے گا۔پس سوال پیدا ہوتاہے کہ مسلمانوں کا ذکر کرنے کے بعد نوح ؑ کا ذکر کیوں کیاگیا۔سویاد رکھناچاہیے کہ نوح ؑ کی قوم کا اس لئے ذکر شروع کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ فتنہ میں ڈالنے کاطریق قدیم سے چلاآتاہے۔اورنوح ؑ شرعی نبیوں میں سے سب سے پہلے نبی ہیں یاکم سے کم حضرت آدم ؑ کے بعد دوسرے۔پس اس وقت سے لے کر اگربعد کے چند نبیوں کا ذکر ہوجائے تومومنوں کوآزمائش میں ڈالنے کاجو ذکرتھااس کی تصدیق ہوجاتی ہے۔پس نوح ؑ کے ذکرسے مومنوں کے ابتلائو ںکی کڑ ی کا ذکر کیاگیاہے۔ا س آیت میں جو یہ ذکر آتاہے کہ لَبِثَ فِیْھِمْ اَلْفَ سَنَۃٍ اِلَّاخَمْسِیْنَ عَامًا نوح ؑ اپنی قو م میں ساڑھے نوسوسال رہے اس کے یہ معنے نہیں کہ حضرت نوح ؑ کی عمر ساڑھے نوسو سال تھی۔بلکہ اس رہنے کے معنے روحانی رہنے کے ہیں۔یعنی نوح ؑ کی تعلیم اپنی قوم میں ساڑھے نوسوسال تک رہی پھر مٹ گئی۔فَاَنْجَيْنٰهُ وَ اَصْحٰبَ السَّفِيْنَةِ وَ جَعَلْنٰهَاۤ پس ہم نے اس کواوراس کی کشتی میں بیٹھنے والے ساتھیوںکونجات دی اورہم نے اس واقعہ کو تمام جہان کے اٰيَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ۰۰۱۶ لوگوں کے لئے ایک نشان بنادیا۔تفسیر۔اس جگہ ان ابتلائوںکا ذکر ہے جو حضرت نوح علیہ السلام کی جماعت کو پیش آئے۔اوربتایاگیا