تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 359

کاذریعہ ہے اورذریعہ کی کمی سے چیز کافقدان نہیں ہوتا۔بیج سے درخت پیدا ہوتاہے۔لیکن پانی سے وہ بڑھتاہے۔ایمان بیج ہے اور عمل پانی جو اسے اوپر اٹھاتاہے۔خالی پانی سے درخت نہیں اگ سکتا لیکن بیج ناقص ہو اورپانی میں کسی قد رکمی ہوجائے تب بھی کسی قدر درخت اگ آتاہے۔کسان ہمیشہ پانی دینے میں غلطیاں کرجاتے ہیں لیکن اس سے کھیت مارے نہیں جاتے جب تک بہت زیادہ غلطی نہ ہوجائے۔انسانی عمل ایمان کو تازہ کرتاہے۔اوراس کی کمی اس میں نقص پیداکرتی ہے۔لیکن اس کی ایسی کمی جوشرارت او ربغاوت کارنگ نہ رکھتی ہو اورحد سے بڑھنے والی نہ ہو ایمان کی کھیتی کوتباہ نہیں کرسکتی اوراگرشرارت اور بغاوت بھی ہو تو خدا کاعدل توبہ کے راستہ میں روک نہیں۔عدل اس کونہیں کہتے کہ ضرو ر سزادی جائے بلکہ اس کوکہتے ہیں کہ بے گناہ کوسزانہ دی جائے۔پس گنہگار کو رحم کرکے بخشنا اللہ تعالیٰ کی صفت عدل کے مخالف نہیں بلکہ عین مطابق ہے۔اگرعدل کے معنے یہ ہوں کہ ہر عمل کی عمل کے برابرجزاملے توبخشش اورنجات کے معنے کیا ہوئے؟کیونکہ عدل کے معنے برابر کے ہیں اوراگریہ صحیح ہوتوکسی شخص کو اس کی عمر کے برابر ایام کے لئے ہی نجات دی جاسکتی ہے اوروہ بھی اس کے اعمال کے وزن کے برابر۔مگراسے کوئی بھی تسلیم نہیں کرتا۔پھر نہ معلوم خدا تعالیٰ کی رحمت کو اس مسئلہ سے کیوں محدود کیا جاتا ہے۔اسلام بتاتاہے کہ خدا تعالیٰ مالک ہے اورمالک کے لئے انعام اوربخشش میں کوئی حدبندی نہیں۔و ہ بے شک وزن کرتاہے لیکن اس کاوزن اس لئے ہوتاہے کہ کسی کو اس کے حق سے کم نہ ملے۔نہ اس لئے کہ اس کے حق سے زیادہ نہ ملے۔مسیح بے شک بے گناہ انسان اور خدا کارسول تھا۔لیکن یہ کہنا درست نہیں کہ وہ دوسروں کابوجھ اٹھالے گا۔قیامت کے دن ہر شخص کو اپنی صلیب خود ہی اٹھانی ہو گی۔اورجو خود اپنی صلیب نہ اٹھاسکے گا وہ نجات بھی نہ پاسکے گا۔سوائے اس کے کہ خداکے فضل کے ماتحت اس کی بخشش ہو اورخدا تعالیٰ خود کسی کابو جھ اٹھالے۔حضرت مسیح ؑ نے بھی انجیل میں یہی نظر یہ پیش کیاہے چنانچہ آپ فرماتے ہیں:۔’’ جوکوئی اپنی صلیب اٹھا کر میرے پیچھے نہیں آتا میرے لائق نہیں ہے۔‘‘(متی باب ۱۰ آیت ۳۸) حضرت مسیح ؑ کے یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ عیسائیوں کا یہ کہنا کہ مسیح نے گناہگاروں کابوجھ اٹھالیا ہے بالکل غلط ہے۔ہرشخص کو اپنا بوجھ خود اٹھاناپڑے گا اوراپنی صلیب آپ اٹھانی پڑے گی۔