تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 32

کرنے کے لئے لوگوں کے دماغ تیار ہوچکے ہوتے ہیں اورماحول مناسب ہوتاہے۔پس اس کا غائب ہونا ہی بتارہاہے کہ یہ تعلیم خدا کی طرف سے آئی تھی۔وہ ایک دفعہ لہر کی صورت میں اٹھی اورپھر اس میں انحطاط واقع ہوگیا۔اب مقد ریہ ہے کہ پھر دوبارہ اس کی لہر بلند ہو اور اس کی دوسری لہر پہلی لہرسے زیادہ اونچی ہو۔قانون قدرت پر غورکرکے دیکھ لو۔اس میں یہی نظار ہ نظر آئے گا۔بچپن میں جب ابھی میں نے پہاڑنہیں دیکھاتھا میں یہ خیا ل کیاکرتاتھا کہ پہاڑ مینار کی طرح ہوتاہوگا اوررسہ پکڑ کر اوپر چڑھنا پڑتاہوگا مگرجب میں پہلی دفعہ شملہ گیا تو میں نے دیکھا کہ پہلے ایک ٹیلہ آتا ہے اس کے بعد دوسراٹیلہ آتا ہے۔پھر تیسراٹیلہ آتا ہے۔اورہرٹیلہ پہلے ٹیلے سے زیادہ بلندہوتاہے۔مگرہرٹیلے کے بعد ایک انحطاط بھی ہوتاہے۔جب انسان پہلے ٹیلے پر قدم رکھتاہے تواس کے بعد اسے یہ محسوس ہوتاہے کہ میں اب نیچے جارہاہوں۔مگر درحقیقت وہ پہلی سطح سے اونچا ہورہاہوتاہے۔پھر دوسرے ٹیلے کے بعد جب نیچے اترتاہے۔توپھر اس کے دل میں یہ خیا ل پیدا ہوتاہے کہ اب میں نچلی طرف جارہاہوں مگرحقیقت میں اس کا قدم اونچا اٹھ رہاہوتاہے۔اسی طرح قدم بقدم ارتفاع اورانحطاط کے دوروں میں سے گذرتے ہوئے وہ بہت بلند پہاڑپر چڑھ جاتاہے۔جس طرح قانون قدرت میں ہمیں یہ نظارہ نظر آتاہے۔اسی طرح انسانی دماغوں کا ارتقاء بھی ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے ا س وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست فیوض حاصل کرنے کے نتیجہ میں یہ تعلیم لوگوں نے اپنا لی۔مگر چونکہ دماغی ارتقاء بھی لہروں کی صورت میں چلتاہے اس لئے پہلی لہر کے بعد ا س میں ایک انحطاط کی صورت واقع ہوگئی۔اب دوسری لہر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ بلند ہوئی ہے۔اوریہ لہر قانون قدرت کے مطابق پہلی لہر سے زیادہ بلندہوگی۔مگر بہرحال ہرلہر کے بعد ایک انحطاط بھی آتاہے اورلوگ اصل تعلیم کو بھول جاتے ہیں۔جب تک یہ چیز قائم ہے اس وقت تک کسی انشورنس وغیرہ کی ضرورت نہیں رہتی۔انشورنس کی غرض آخر کیا ہوتی ہے۔یہی کہ اگرہم مر جائیں توہمارے بیوی بچوں کو روٹی ملتی رہے۔کپڑا ملتارہے۔سامانِ خوردونوش اورمکان ملتارہے۔جب حکومت ان تمام چیز وںکی ذمہ وار ہوگی توانشورنس کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہتی۔کیونکہ ساروں کومکان بھی مل رہاہوگا۔غذابھی مل رہی ہوگی۔کپڑابھی مل رہاہوگا۔ان کی تعلیم کابھی انتظام ہورہاہوگا۔اوران کی بیماریوں کا علاج بھی ہورہاہوگا۔یہی وہ قومی اخراجات ہیں جن کی ادائیگی کے لئے اسلام نے زکوٰۃ اور صدقہ و خیرات کا وسیع نظام جاری فرمایا ہے۔اورمومنوں کی علامت ہی اس نے یہ بتائی ہے کہ وہ زکوٰۃ اداکرتے ہیں۔اوراس طرح مخلوق کی خدمت کرکے خالق کی محبت کوحاصل کرتے ہیں۔دنیا میں بہترین ذریعہ کسی کی محبت حاصل کرنے کا یہی ہوتاہے کہ اس کے کسی عزیز سے محبت کی جائے ریلوے سفرمیں روزانہ یہ نظارہ