تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 354 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 354

ہے کہ جب کبھی اللہ تعالیٰ کے راستہ میں ان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو لوگوںکے عذاب دینے کو وہ اللہ کے عذاب دینے کے برابر سمجھ لیتے ہیں۔اورجب کبھی تیرے رب کی طرف سے نصر ت آجائے توپھر اپنی اصل حالت کو چھپانے کے لئے مسلمانوں کے پاس آ آکر کہتے ہیں کہ ہم توتمہارے ساتھ تھے۔حالانکہ وہ صرف منہ سے ساتھ تھے دل سے ساتھ نہیں تھے۔مومنوں کو اس قسم کے بزدلانہ رویہ سے بچناچاہیے اورصداقت پرپوری مضبوطی سے قائم رہناچاہیے۔آج سب سے بڑی مصیبت سچ کی اشاعت میں یہی ہے کہ لوگ قوم اور ملک کی رسوم کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔یورپ میں سےلاکھوں آدمی ایسے ہیں۔جن کے دلوں پر اسلام کی سچائی نے اثر کرلیا ہے مگروہ ملک کی اور قوم کی رسوم کامقابلہ کرنے اوراپنے ہمسائیوں کے تمسخر سے گھبراتے ہیں۔اگروہ دلیرہوجائیں تونہ صرف ان کو سچائی قبول کرنے کاموقعہ ملے بلکہ ان کو دیکھ کرہزاروں اورآدمی آگے آجائیں اورسچائی دنوں میں اتنی پھیل جائے جوپچھلی صدیوں میں نہیں پھیلی تھی۔کیونکہ اس زمانہ کی تمام خرابیوں کے باوجود اس میں اتنی خوبی موجود ہے کہ علوم کے خزانے باہر آگئے ہیں اورہرعلم کے متعلق اتنی کتابیں موجود ہیںکہ انسان آسانی سے ان علوم کو حاصل کرسکتاہے۔یہ بات پہلے لوگوں کو میسر نہ تھی۔پس مبارک ہے وہ جو اس سامان سے فائدہ اٹھاتاہے اورسچے مذہب کے قائم کرنے میں اپنی نیک مثال سے مدد دیتاہے۔یقیناً اللہ تعالیٰ کے فضل اس پر نازل ہوں گے۔اورآنے والی نسلیں ان کو دعائیں دیں گی۔ہم انتظار کررہے ہیں کہ یورپ اور امریکہ میں سے کون کون سے لوگ اس مقام کوحاصل کرتے ہیں۔جَعَلَ فِتْنَۃَ النَّاسِ کَعَذَابِ اللّٰہِ سے معلوم ہوتاہے کہ ابتلاء اورعذاب میں بہت بڑافرق ہوتاہے مگرلوگ اپنی نادانی سے اس فرق کو ملحوظ نہیں رکھتے اورخدا تعالیٰ کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات کووہ اپنی تباہی کاموجب سمجھ لیتے ہیں۔حالانکہ وہ ان کی ترقی کاپیش خیمہ ہوتی ہیں۔ابتلاء او رعذاب میں فرق یہ ہوتاہے کہ (۱) عذاب کانتیجہ ہلاکت اورتباہی ہوتی ہے مگرابتلاء کا نتیجہ یہ نہیں ہوتا۔تکلیفیں تو دونوں طرح ہی آتی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہی دیکھ لو۔بارہاایساہواہے کہ آپ دشمن کے نرغے میں اکیلے پھنس گئے۔مگرپھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچالیا مگر ابوجہل ایک ہی دفعہ فوجوں سمیت پکڑا گیا اورہلاک ہوگیا۔(۲) عذاب کے نتیجہ میں نقصان کی زیادتی ہوتی ہے اورابتلاء میں نفع کی زیادتی ہوتی ہے۔ابتلاء کی مثال تو ایسی ہوتی ہے جیسے ربڑ کے گیند کو جتنے زور سے پھینکاجائے وہ اتنا ہی اچھلتاہے۔مگرعذاب میں گرکر انسان اوپر نہیں اٹھ سکتا۔