تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 353 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 353

ایسی قوم کی حمایت کے لئے کھڑی ہوگئی ہے جس کوبائیبل بھی ملزم قرار دیتی ہے اورقرآن کریم بھی ملزم قرار دیتاہے۔یہودی اگر فلسطین میں مستقل طور پر رہنا چاہتے ہیں تواس کاایک ہی ذریعہ ہے کہ وہ صالحین میں شامل ہوجائیں۔خدا تعالیٰ کوان سے کوئی دشمنی نہیں۔وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔اگروہ صالح بن جائیں تووہ اس ملک میں رہ سکتے ہیں۔لیکن قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ صالح کی تشریح میں فرماتا ہے کہ جولوگ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کریں وہ صالح اورشہید اور صدیق وغیرہ کا مقام پائیں گے۔پس صالح بننے کے لئے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی پیروی ضروی ہے۔اگر یہود محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرایمان لے آئیں۔تواللہ تعالیٰ ان کو اس ملک میں قائم رکھے گااوروہ اسی طرح مسلمانوں کے بھائی ہوں گے جس طرح اسحاق ؑ اسماعیل ؑ کابھائی تھا۔پس کوئی وجہ نہیں کہ وہ ہمت کرکے خدا تعالیٰ کے قانون کواپنی تائید میں نہ بنالیں۔وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوْذِيَ فِي اللّٰهِ اورلوگوں میں سے (بعض ایسے بھی ہوتے ہیں)جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ(تعالیٰ )پرایمان لے آئے ہیں پھرجب جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَىِٕنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّنْ اللہ (تعالیٰ )کی وجہ سے ان کو تکلیف دی جاتی ہے وہ لوگوں کے عذاب کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھ لیتے ہیں اور رَّبِّكَ لَيَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ١ؕ اَوَ لَيْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِمَا اگرتیرے رب کی طرف سے مددآتی ہے تووہ کہتے ہیں(درحقیقت) ہم بھی تمہارے ساتھ تھے۔کیادنیا جہان کے فِيْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِيْنَ۰۰۱۱وَ لَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ لوگوں کے دلوں میں جو کچھ ہے اس کو اللہ(تعالیٰ ) اچھی طرح نہیں جانتا؟ اور اللہ(تعالیٰ )ضرو رظاہر کردے گا لَيَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ۰۰۱۲ ان کو بھی جو ایمان لائے اوران کو بھی جو منافق ہیں۔تفسیر۔اس آیت میں بتایاکہ جولوگ صرف منہ کے ایمانوں پر بھروسہ کرتے ہیں ان کی یہ حالت ہوتی