تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 352
یہ بھی یاد رکھناچاہیے کہ ابتلائوں کے ذکر میں ماں باپ سے حسن سلوک کی تاکید اس لئے کی گئی ہے کہ نبیوں کے آنے پر بسا اوقات نوجوا ن طبقہ تو پرانے خیالات سے آزاد ہونے کی وجہ سے صداقت کوقبول کرلیتا ہے لیکن ان کے والدین اپنے پرانے عقائد پر ہی قائم رہتے ہیں اور چونکہ مذہبی عقائد کااختلاف ماں باپ اوران کی اولاد میں ایک وسیع خلیج حائل کردیتاہے۔اس لئے بعض دفعہ والدین ایسی سختی پر اترآتے ہیں کہ وہ اپنے بیٹوں کواپنے گھروں سے نکال دیتے یاانہیں اپنی جائیدادوں سے بے دخل کردیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ مومنوںکوتوجہ دلاتاہے کہ بیشک تمہاراصداقت قبول کرنا ایک بڑی بھاری نیکی ہے لیکن اس کے یہ معنے نہیں کہ تم ان سختیوں کی وجہ سے اپنے ماں باپ سے حسن سلوک ترک کردو۔تمہاراکام یہی ہے کہ تم ہمیشہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرو۔اوردنیوی معاملات میں ان سے محبت کے ساتھ پیش آئو۔ہاںاگر وہ تمہیں کبھی خدااوراس کے رسول سے برگشتہ کرنے کی کوشش کریں توتم فوراً کہہ دوکہ اس معاملہ میں ہم آپ کی اطاعت کرنے کے لئے تیار نہیں۔وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِي اورجولوگ ایمان لائے ہیں اور اس کے مطابق انہوں نے عمل بھی کیاہے ہم ان کو اچھے بندوں میں الصّٰلِحِيْنَ۰۰۱۰ داخل کریں گے۔تفسیر۔اس آیت میں بتایاگیا ہے کہ جولوگ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرسچے دل سے ایمان لائے ہیں اورپھراس ایمان کے مطابق انہوں نے اعمال صالحہ بھی کئے ہیں ہم انہیں یقیناً صالحین میں داخل کریں گے یعنی ان صادق اورراستباز لوگوں میں شامل کریں گے جن کے متعلق زبو ر (زبور باب ۳۷ آیت ۲۹) میں ہم نے وعدہ کیاتھا کہ انہیں فسلطین کی بادشاہت دی جائے گی۔گویا وہ وعدہ جوبنی اسرائیل سے کیاگیا تھااب مسلمانوں کے ایمان اور عمل صالح کرنے کی وجہ سے ان کی طرف منتقل ہوجائے گا۔چنانچہ جب تک مسلمان صالح رہے فلسطین مسلمانوں کے پاس رہا۔اورجب ان میں بگاڑ پیداہوگیا فلسطین بھی ان سے چھن گیا۔مگرجیسا کہ قرآن کریم کی دوسری آیات سے ظاہر ہے یہ فلسطین کاچھننا عارضی ہے ایک دن اللہ تعالیٰ ان کو پھراس ملک میں لائے گا اور ان کی موجودہ پسپائی فتح سے بدل جائے گی۔انشاء اللہ تعالیٰ۔امریکن قوم بڑی ہوشیار ہے مگراس موقعہ پر اس نے سخت غلطی کی ہے اورایک