تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 349 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 349

تصویر ہی ہو۔کبھی وہ ابتدائی زمانہ کی تصویر ہوتی ہے کبھی درمیانی زمانہ کی او ر کبھی آخری زمانہ کی۔ا ب اگراس مصور کو ایک نئی زندگی دی جائے اوراس کی لیاقت کی اوسط نکال کر یااس کی آخری عمر کی حالت کے مطابق اسے اس کی نئی زندگی میں ذہانتِ مصور ی بخشی جائے تویقیناً اس کانقطہء مسابقت ادنیٰ ہوگا۔لیکن اگراس کے ذہن کو اس سطح پر رکھ دیاجائے جواسے اپنی چوٹی کی تصویر بناتے وقت میسر تھا تواس کانقطئہ مسابقت یقیناً بہت اعلیٰ درجہ کاہوگا۔گویاذہن کی عام قابلیت اگراعلیٰ سے اعلیٰ کام کے مطابق رکھی جائے تووہ یقیناً اعلیٰ ہوگی۔بہ نسبت تما م کام کی اوسط نکال کر اس کے مطابق رکھنے کے۔کیونکہ انسانی زندگی میں قبض اور بسط کے دورآتے رہتے ہیں اوران دونوں کی اوسط گوقبض کی گھڑیوں سے اعلیٰ ہوتی ہے لیکن بسط کی اعلیٰ گھڑیوں سے بہت اد نیٰ ہوتی ہے۔اسی قانون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دوسری زندگی میں ہم جو قوتِ عمل انسان کو بخشیں گے و ہ اس کی پہلی زندگی کی ترقیات کی اوسط کے مطابق نہ ہوگی بلکہ اس کی پہلی زندگی کی ان گھڑیوں کے مطابق ہوگی جن میں انسان نے اپنا انتہائی کمال ظاہر کیاہوگا خواہ وہ کمال زندگی کے کسی دو ر میں ظاہر ہواہواوراس طرح ہم اسے ایک ایسا اعلیٰ نقطئہ مسابقت بخشیں گے جس پر کھڑے ہوکر و ہ اعلیٰ مقامات کو بہت سرعت سے حاصل کرسکے گا۔اوران معنوں کے روسے اعلیٰ سے اعلیٰ عمل کے مطابق جزاء کاملنا ایک انعام ہے او رانعام بھی وہ جس کاخیال کرکے بھی دل خوشی سے اچھل پڑتا ہے۔فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ وَ وَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا١ؕ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ اورہم نے انسا ن کواپنے والدین سے اچھا سلوک کرنے کاحکم دیاہے اور(کہا ہے کہ) اگر و ہ دونوں تجھ سے اس لِتُشْرِكَ بِيْ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا١ؕ اِلَيَّ بات میں بحث کریں کہ تُو کسی کومیراشریک قرار دے حالانکہ اس کاتجھے کوئی علم نہیں توتُوان دونوں کی فرمانبرداری نہ