تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 346 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 346

پس قربانیاں کرتے وقت تم کبھی یہ خیال نہ کرو کہ تم خدااوراس کے رسول پرکوئی احسان کررہے ہو۔خدا تعالیٰ قربانیوں کا محتاج نہیں بلکہ تم اس کے فضل کے محتاج ہو اوراگرتمہیں کسی نیکی کی توفیق ملتی ہے توتم خدا پر یااس کے سلسلہ پرکوئی احسان نہیں کرتے بلکہ خو د اپنی جان پر احسان کرتے ہو۔جولوگ اس نکتہ کو نہیں سمجھتے وہ بعض دفعہ نیکیاں کرتے کرتے جنت کے دروازہ تک پہنچ جاتے ہیں اوران کاغرور ان کے راستہ میں دیوا ربن کر حائل ہو جاتا ہے۔اوروہ دوزخ میں جاگرتے ہیں۔پس نیکیوں کے بعد کبر یا خودپسندی کے جذبات کی بجائے ہمیشہ خدا تعالیٰ کاشکر اداکرناچاہیے جس نے ایمان کی توفیق دی۔اورمصائب و آفات میں ثباتِ قدم عطافرمایا۔وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ اورجولوگ ایمان لائے او رایمان کے مطابق انہوں نے عمل کئے ہم ان کی بدیوں کو سَيِّاٰتِهِمْ وَ لَنَجْزِيَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِيْ كَانُوْا ان سے دو رکردیں گے اورجوکام وہ کرتے تھے اس کے مطابق جو بہترین جزاء ان کومل سکتی ہوگی يَعْمَلُوْنَ۰۰۸ وہ ہم ان کودیں گے۔حلّ لُغَات۔لَنُکَفِّرَنَّ۔لَنُکَفِّرَنَّ کَفَّرَ سے جمع متکلم مؤکد بہ نونِ ثقیلہ کاصیغہ ہے اور کَفَّرَ اللّٰہُ لَہُ الذَّنْبَ کے معنے ہیں مَحَاہُ یعنی گناہ کے اثر اوراس کے نشان کو مٹادیا (اقرب)۔اسی طرح کَفَّرَ کے معنے بدلہ دینے کے بھی ہوتے ہیں۔قرآن کریم میں آتاہے۔ذٰلِکَ کَفَّارَۃُ اَیْمَانِکُمْ اِذَاحَلَفْتُمْ(المائدۃ: ۹۰) جب تم قسم کھاکراسے توڑ دو توا س کابدلہ وہ ہے جو اوپر بیان ہوچکا ہے وَالتَّکْفِیْرُ سَتْرُہٗ وَتَغْطِیَتُہٗ یَصِیْرَحَتّٰی بِمَنْزِلَۃِ مَالَمْ یَعْمَلْ۔اورتکفیر (جو کَفَّرَ کامصدر ہے جس سے کفارہ بناہے) کے معنے کسی عمل کو اس حد تک چھپادینے اورڈھانپ دینے کے ہوتے ہیں کہ گویا اس کاوجود ہی نہ تھا اوراس کے کرنے والے نے وہ عمل کیا ہی نہ تھا۔وَیَصِحُّ اَنْ یَّکُوْنَ اَصْلُہٗ اِزَالَۃَ الْکُفْرِ وَالْکُفْرَانِ نَحْوَ التَّمْرِیْضِ فِیْ کَوْنِہٖ اِزَالَۃً لِّلمَرَضِ وَتَقْذِیَۃِ الْعَیْنِ فِیْ اِزَالَۃِ الْقَذٰی عَنْہُ (مفردات ) اوریہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس لفظ کی بنیاد بابِ تفعیل کے اس خاصہ پر ہو کہ وہ اصل مادہ