تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 336
ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جب سیالکوٹ تشریف لے گئے تومولویوں نے یہ فتویٰ دیدیاکہ جو شخص مرزا صاحب کے پا س جائے گا یاان کی تقریروں میں شامل ہوگا۔اس کانکاح ٹو ٹ جائے گا۔یہ کافر اوردجال ہیں ان سے بولنا ،ان کی باتیں سننا اوران کی کتابیں پڑھنا بالکل حرام ہے۔بلکہ ان کو مارنااور قتل کرناثواب کاموجب ہے مگر آپ کی موجود گی میں انہیں فساد کی جرأت نہ ہوئی۔کیونکہ چاروں طرف سے احمدی جمع تھے۔انہوں نے آپس میںیہ مشورہ کیا کہ ان کے جانے کے بعد فساد کیاجائے۔میں بھی اس وقت آپ کے ساتھ تھا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃوالسلام وہاں سے روانہ ہوئے اورگاڑی میں سوار ہوئے تودورتک آدمی کھڑے تھے جنہوں نے پتھر مارنے شروع کردیئے۔مگرچلتی گاڑی پر پتھر کس طرح لگ سکتے تھے۔شاذونادرہی ہماری گاڑی کو کوئی پتھرلگتا۔وہ مارتے ہم کو تھے اورلگتاان کے کسی اپنے آد می کو تھا۔پس ان کایہ منصوبہ توپورانہ ہوسکا۔باقی احمد ی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وجہ سے وہاں جمع تھے ان میں سے کچھ توارد گرد کے دیہات کے رہنے والے تھے جوآپ کی واپسی کے بعد ادھر ادھر پھیل گئے اورجوتھوڑے سے مقامی احمدی رہ گئے یاباہر کی جماعتوں کے مہمان تھے ان پرمخالفین نے ا سٹیشن پرہی حملے شروع کردیئے۔ان لوگوں میں سے جن پرحملہ ہواایک مولوی برہان الدین صاحبؓ بھی تھے۔مخالفوں نے ان کاتعاقب کیا۔پتھر مارے اوربرابھلاکہا۔اورآخرایک دکان میں انہیں گرالیا اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ گوبرلائو ہم اس کے مونہہ میں ڈالیں۔چنانچہ وہ گوبر لائے او رانہوں نے مولوی برہان الدین صاحبؓ کامنہ کھول کر اس میں ڈال دیا۔جب وہ انہیں ماررہے تھے اورگوبر ان کے مونہہ میں ڈالنے کی کوشش کررہے تھے توبجائے اس کے کہ مولوی صاحب انہیں گالیاں دیتے یاشور مچاتے۔جنہوں نے و ہ نظارہ دیکھا ہے بیان کرتے ہیں کہ و ہ بڑے اطمینان اورخوشی سے یہ کہتے جاتے تھے کہ سبحان اللہ! یہ دن کسے نصیب ہوتاہے۔یہ دن تواللہ تعالیٰ کے نبیوں کے آنے پر ہی نصیب ہوتے ہیں۔اوراللہ تعالیٰ کابڑااحسان ہے جس نے مجھے یہ دن دکھایا۔نتیجہ یہ ہواکہ تھو ڑی دیر میں ہی جولوگ حملہ کررہے تھے ان کے نفس نے انہیں ملامت کی اور وہ شرمندگی اورذلت سے آپ کو چھوڑ کرچلے گئے۔توبات یہ ہے کہ جب دشمن دیکھتاہے کہ یہ لوگ موت سے ڈرتے ہیں توکہتاہے آئو ہم انہیں ڈرائیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ شیطان اپنے اولیاء کو ڈراتاہے۔پس جب کوئی شخص ڈرتاہے تو وہ سمجھتے ہیں کہ یہ شیطانی آدمی ہے لیکن اگروہ ڈرتانہیں بلکہ ان حملوںاورتکالیف کو خدا تعالیٰ کاانعام سمجھتاہے اور کہتاہے خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے یہ عز ت کا مقام عطافرمایا ہے اور اس نے مجھ پراحسان کیا ہے کہ میں اس کی خاطر مار کھارہاہوں تودشمن مرعوب ہو جاتا ہے اورآخر اس کے دل میں ندامت پیداہوجاتی ہے۔