تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 30
جب یہ امر ناممکن ہوگیا اورخطرہ پیداہوگیا کہ بعض لوگ بھوکے رہنے لگ جائیں گے تورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب تمہیں علیحدہ کھانے کی اجازت نہیں اب سب کوایک جگہ سے برابر کھاناملے گا۔صحابہؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم پر ہم نے اس سختی سے عمل کیا کہ اگر ہمارے پاس ایک کھجور بھی ہوتی توہم اس کا کھانا سخت بددیانتی سمجھتے تھے اوراس وقت تک چین نہیں لیتے تھے جب تک کہ اس کو سٹور میں داخل نہیں کردیتے تھے۔یہ دوسرانمونہ تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھایا۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دولت بھی آئی اورخزانوں کے منہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لئے کھو ل دیئے۔مگراللہ تعالیٰ چاہتاتھا کہ اس بار ہ میں تفصیلی نظام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جاری ہو تالوگ یہ نہ کہہ دیں کہ یہ صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی۔کوئی اَورشخص اسے جاری نہیں کرسکتا۔چنانچہ ادھر اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے ہاتھ سے ایک نمونہ قائم کردیا اوراُدھر مدینہ پہنچتے ہی انصارؓ نے اپنی دولتیں مہاجرین کے سامنے پیش کردیں۔مہاجرین نے کہا ہم یہ زمینیں مفت میں لینے کے لئے تیار نہیں ہم ان زمینوں پر بطور مزارع کام کریں گےاور تمہاراحصہ تمہیں دیں گے۔لیکن یہ مہاجرین کی طرف سے اپنی ایک خواہش کا اظہار تھا۔انصارؓ نے اپنی جائیدادوں کے دینے میںکوئی پس و پیش نہیں کیا۔یہ ایسی ہی بات ہے۔جیسے گورنمنٹ راشن دے توکوئی شخص نہ لے۔اس سے گورنمنٹ زیر الزام نہیں آئے گی۔یہی کہا جائے گا کہ گورنمنٹ نے توراشن مقرر کردیا تھا۔اب دوسرے شخص کی مرضی تھی کہ و ہ چاہے لیتایا نہ لیتا۔اسی طرح انصار ؓ نے سب کچھ دےدیا تھا۔یہ الگ بات ہے کہ مہاجرینؓ نے نہ لیا۔غرض عملی طور پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کام اپنی زندگی میں ہی شروع فرما دیا تھا۔یہاں تک کہ جب بحرین کا بادشاہ مسلمان ہوا توآپؐ نے اسے ہدایت فرمائی کہ تمہارے ملک میں جن لوگوں کے پاس گذارہ کے لئے کوئی زمین نہیں ہے تم ان میں سے ہرشخص کو چار درہم او رلباس گذارہ کے لئے دو تاکہ وہ بھوکے اورننگے نہ رہیں(السیرۃ النبویۃ برحاشیۃ السیرۃ الحلبیۃ جلد ۳ص ۶۹)۔اس کے بعد مسلمانوں کے پاس دولتیں آنی شروع ہوگئیں۔چونکہ مسلمان کم تھے اور دولت زیادہ تھی اس لئے کسی نئے قانون کے استعمال کی اس وقت ضرورت محسوس نہ ہوئی۔کیونکہ جو غرض تھی و ہ پوری ہورہی تھی۔اصول یہ ہے کہ جب خطرہ ہو تب قانون جاری کیا جائے۔اورجب نہ ہواس وقت اجازت ہے کہ حکومت اس قانون کو جاری کرے یا نہ کرے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے اورمسلمان دنیا کے مختلف گوشوں میں پھیلنے شرو ع ہوئے تو اس وقت غیر قومیں بھی اسلام میں شامل ہوگئیں عرب لوگ تو ایک جتھہ اورایک قوم کی شکل میںتھے اوروہ آپس میں مساوات بھی قائم رکھتے تھے جب اسلام مختلف گوشوں میں پہنچا اور مختلف قومیں