تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 333

اعتبار نہیں۔چنانچہ وہ لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔مگرباقیوں نے سمجھا کہ جب یہ لوگ قسمیں کھاکھاکرکہہ رہے ہیں کہ ہم کچھ نہیں کہیں گے توہمیں ان پر اعتبارکرتے ہوئے نیچے اترآناچاہیے۔جب وہ نیچے اترے توانہوں نے رسیاں باندھ کر انہیں گھسیٹناشروع کردیا۔اس پر ان لوگوں نے پھر مقابلہ کیامگر وہ کیا کرسکتے تھے باقیوں کوتوانہوں نے مار دیا لیکن دوکو پکڑ کرمکہ لے گئے اوران لوگوں کے ہاتھ میں انہیں بیچ دیا جن کے بعض آدمی مسلمانوں سے مار ے گئے تھے ان میں سے ایک کوقتل کرنے سے پہلے مکہ کے لوگوں نے پوچھا کہ کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اس وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری جگہ پریہاں ہوتے اور تم اپنے بیوی بچوں میں مدینہ میں آرام سے بیٹھے ہوئے ہوتے۔اس نے جواب دیاخدا کی قسم تم تو یہ کہتے ہو کہ میں مدینہ میں آرام سے بیٹھاہواہوتا اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں میری جگہ ہوتے۔مَیں تویہ بھی پسند نہیں کرتا کہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آرام سے بیٹھے ہوں اور آپ کے پائوں میں کانٹاتک چبھے۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دفعہ ایک قبیلہ کارئیس آیا۔اوراس نے کہا میری قوم اسلام لانے کے لئے تیار ہے۔آپ میرے ساتھ کچھ آدمی بھجوادیں۔وہ تو اپنی اس بات میں سچاتھا اوربعد میں ایما ن بھی لے آیا مگر اس کی قوم نے غداری کی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اعتبا رکرتے ہوئے ستّر حفاظ کاقافلہ اس کی قوم کی طرف روانہ کردیا۔جب وہ اس قبیلہ کے پا س پہنچے توانہوں نے اس رئیس کے بھتیجے کے پاس ایک آدمی کے ذریعہ پیغام بھجوادیاکہ ہم لو گ آگئے ہیں۔اب ہمیں بتایاجائے کہ ہماراکیاکام ہوگا۔اس نے ان کے سردار کو بلوایا۔اورجب وہ ان سے باتیں کررہاتھا۔اس رئیس نے ایک شخص کو اشارہ کیا جس نے پیچھے سے اس صحابیؓ کی گردن میں نیزہ مار ااوروہ وہیں ڈھیر ہوگیا۔جب اسے نیزہ لگا۔توتاریخ میں لکھا ہے کہ اس نے نعر ہ لگایااورکہا فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ۔کعبہ کے رب کی قسم میں اپنے مقصد میں کامیا ب ہوگیا۔پھر وہ اکٹھے ہوکر تمام صحابہؓ پر ٹوٹ پڑے۔انہی لوگوں میں حضرت ابو بکرؓ کاوہ غلام بھی تھا جوہجرت کے وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔جب ہزاروں آدمیوں کے ہجوم نے ان ستر صحابہؓ پر حملہ کردیاتویہ لازمی بات تھی کہ انہوں نے ماراجاناتھا۔چنانچہ وہ سارے کے سارے وہیں قتل ہوگئے۔اوران میں سے کسی نے بھی ہتھیار نہ ڈالا۔یکے بعد دیگرے جب وہ لوگ مرتے یاکسی کو خنجر لگتا یاتلوار سے کسی کاسر کٹتا تویہی الفاظ ان کی زبان پر ہوتے کہ فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَۃ خدائے کعبہ کی قسم میں اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا۔ایک شخص کہتاہے کہ مَیں اسلام سے واقف نہیں تھا۔میں باہر سے آیاتھا۔اورقبیلہ والوں کے ساتھ مل کر لڑائی میں شامل ہوگیا تھا میں نے جب دیکھا کہ یہ لوگ مرتے وقت بجائے یہ کہنے کے کہ ہائے