تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 329
ظاہری آثار ظاہر نہ ہوں۔لوگوں کو اس بات پر یقین نہیں آتا اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ گو ہم تو جانتے ہیں لیکن ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ بنی نو ع انسان کی بھی تسلی ہو اور ان کو بھی معلوم ہوکہ کون مومن ہے اور کون غیر مومن۔اس لئے اگر کوئی شخص منہ سے ایمان کا دعویٰ کرے تو ہم اس پر خاموش نہیں ہوجاتے بلکہ باربار ایمان کا دعویٰ کرنے والوں کی آزما ئش کرتے ہیں۔یہاں تک کہ سب دنیا کو معلوم ہو جاتاہے کہ یہ گروہِ مومنین جس کو خدا تعالیٰ نے چنا تھا واقعہ میں مومن ہے۔وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا وَ لَيَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِيْنَ۔پھر مثال دیتا ہے کہ یہ طریق ہم نے آج ہی اختیار نہیں کیابلکہ پہلے زمانہ کے لوگوں کو بھی مختلف قسم کی آزمائشوں میں ڈالا گیا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ لوگوں کے دلوں کے مخفی یقین اور ایمان کو دوسروں پر ظاہر کردے۔اس جگہ عِلْم کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اوراس کے ظاہری معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ آزمائش کے ذریعہ جان لے گا کہ کون مومن ہے اور کون منافق۔اس پر سوال پید ا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم تو ازلی ہے اور وہ ہمیشہ سے ہر واقعہ کو جانتا ہے خواہ وہ آدمؑ کے وقت ہوا ہو یا قیامت کے دن ہونے والا ہو۔پھر ایسا کیوں کہا گیاہے کہ اللہ تعالیٰ آزمائش کے ذریعہ سے جان لے گا کہ کون مومن ہے اور کو ن منافق۔سوا س کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کہ علم الٰہی دو قسم کا ہے۔ایک کسی چیز کے واقعہ ہونے سے پہلے کااورایک واقعہ ہونے کے بعد کا۔جووقوعہ سے پہلے کاعلم ہے وہ بھی سچا ہے۔لیکن مجرم کواس کی بناء پر سزادی جائے یااچھاکام کرنے والے کوانعام دیاجائے تواس کی تسلی نہیں ہوتی۔اس کو شک رہتاہے کہ میری سزایاانعام ٹھیک تھا یا غلط۔لیکن وقوعہ کے بعد کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا اوراس کو سزایاجزاء کے حق ہونے کااقرار کرنا پڑتا ہے۔قرآن کریم نے اس آیت میں جو لَیَعْلَمَنَّ فرمایا ہے اس کے یہی معنے ہیں کہ ہم اپنے علم قدیم کو علمِ واقعہ سے بدل دیں گے۔یعنی مومنوں کو ایسے حالات میں سے گذرنے دیں گے کہ ان پر بھی ا وران کے ساتھیوں پر بھی یہ بات کھل جائے گی کہ وہ سچے مومن تھے۔اورکفار کو بھی ا س اعتراض کاموقعہ نہیں ملے گا کہ ان کو یونہی انعام مل گیاہے یہ اس کے مستحق نہ تھے۔پس درحقیت لَیَعْلَمَنَّ کے معنے ظاہرکردینے کے ہیں۔یعنی صادق مومنوں کاجب صدق ظاہر ہوجائے گا اورباوجود ابتلائوں کے وہ ثابت قدم رہیں گے تواللہ تعالیٰ اپنے علمِ ازلی کو علم واقعہ سے بدل دے گا۔کیونکہ علمِ ازلی تو خدا کو ہے مگربندے تونہیں جانتے کہ ایساہوگا۔بندے اس وقت جانتے ہیں جب کوئی بات وقوع میں آجائے۔مثلاًاللہ تعالیٰ ہمیشہ سے جانتاہے کہ زید فلاں مہینہ میں فلاں دن مرے گا لیکن بندوں کوتو معلوم نہیں اورنہ