تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 328
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱ (میں )اللہ (تعالیٰ) کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور )بار بار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں) الٓمّٓۚ۰۰۲اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْۤا اَنْ يَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا میں اللہ سب سے زیادہ جاننے والا ہوں۔کیا اس زمانہ کے لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ان کا یہ کہہ دینا کہ ہم ایمان وَهُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ۰۰۳وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ لے آئے ہیں(کافی ہوگا) اور وہ چھوڑ دیئے جائیں گے اور ان کو آزمایا نہ جائے گا ؟حالانکہ جو (لوگ) ان سے پہلے فَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا وَ لَيَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِيْنَ۰۰۴ گزرچکے ہیں ان کوہم نے آزمایا تھا (اور اب بھی وہ ایسا ہی کرے گا ) سو اللہ (تعالیٰ) ظاہر کردے گا ان کو بھی جنہوں نے سچ بولا اور ان کو بھی جنہوں نے جھوٹ بولا۔تفسیر۔جیسا کہ سورئہ بقرہ کی تفسیر میں لکھا جا چکا ہے کہ الٓمّ تین حروف مقطعات سے مرکب ہے۔الفؔ اَنَا کا قائم مقام ہے لؔ اللہ کا اور مؔ اَعْلَمُ کا۔اور ان حروف کے معنے یہ ہیں کہ میں اللہ سب سے زیادہ جاننے والا ہوں۔جیسا کہ پہلے بتایا جاچکا ہے حروفِ مقطعات درحقیقت سورۃ کے آنے والے مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔چنانچہ اس جگہ بھی فرمایاگیا ہے کہ کیا لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ صرف ان کے منہ کے ان دعووں کی وجہ سے کہ وہ ایمان لے آئے ہیں ان کو آزاد چھو ڑ دیا جائے گا اور ان کی آزمائش نہیں کی جائے گی ؟اب بظاہر یہ آیت الٓمّٓ کے مضمون کے خلاف معلوم ہوتی ہے کیونکہ الٓمّٓ کے معنے ہیں کہ خدا تعالیٰ سب سے زیادہ جانتا ہے۔اور یہ آیت بتاتی ہے کہ جب تک آزمائش میں ڈال کر مومنوں کے ایمان کی حقیقت نہ کھولی جائے۔صرف مونہہ سے یہ کہہ دینا کہ ہم ایمان لے آئے ہیں کافی نہیں ہوتا۔گویا نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ کو بھی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو آزمائشوں میں ڈال کر ان کے ایمان کے متعلق صحیح علم حاصل کرے۔لیکن درحقیقت اگر غور کیا جائے۔تو ان دونوں معنوں میں کوئی حقیقی اختلاف نہیں کیونکہ گو اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ جانتا ہے لیکن نہ کافر اس بات پر یقین رکھتے ہیں اور نہ کمزور مومن کہ اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ جانتا ہے۔خدا تعالیٰ چونکہ وراء الوراء ہے اور اس کا علم بھی وراء الوراء ہے۔جب تک