تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 324

پھر بتایاکہ مشرک لوگ جومعبودان باطلہ کو اپنی جائے پناہ سمجھتے ہیں ان کی یہ پناہ گاہیں مکڑی کے گھرسے بھی زیادہ کمزور ہوتی ہیں۔اوروقت آنے پر ان کاتمام تار پود بکھر جاتاہے۔کاش! یہ لوگ اس حقیقت کو سمجھتے۔(آیت ۴۲) اللہ تعالیٰ جانتاہے کہ یہ مشرکین اسلام کو نقصان پہنچانے کے لئے کن کن لوگوں کواپنے ساتھ ملارہے ہیں۔اور انہیں اپنی مدد پرآمادہ کررہے ہیں۔مگران کی یہ تدبیریں انہیں کامیاب نہیں کرسکتیں۔کیونکہ خدابڑاغالب اورحکیم ہے۔(آیت ۴۳) اورہم نے ان واقعات او رامثال کاا س لئے ذکر کیاہے کہ لوگ نصیحت حاصل کریں مگرخدا تعالیٰ کی خشیت رکھنے والوں کے سوااَورکوئی نصیحت حاصل نہیں کرتا۔(آیت ۴۴) ان لوگوں کو چاہیے تھاکہ یہ آسمانوں او رزمین کی تخلیق پر غو رکرتے اورسوچتے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک عظیم الشان مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اوراس میں مومنوں کے لئے ایک بڑابھاری نشان ہے یعنی وہ جانتے ہیں کہ جس طرح جسمانی عالم میں یہ زمین و آسمان ضروری ہیں اسی طرح روحانی عالم میں بھی عقل کے ساتھ الہام کاوجود ضروری ہے۔(آیت ۴۵) فرماتا ہے اے محمدؐ رسول اللہ!لوگوںکی اصلاح کاذریعہ یہ ہے کہ تُوقرآن کریم لوگوں کو سنااور نماز باجماعت کودنیا میں قائم کر۔اس سے ہرقسم کی بری اورناپسندید ہ باتوں کااستیصال ہوجائے گا۔اورسب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس ذریعہ سے لوگوں کو ذکر الٰہی کاموقعہ ملتا رہے گا۔جواپنی ذات میں تمام مقاصد میں سے بڑامقصد ہے۔اور اگراہل کتاب سے کبھی بحث کی نوبت آجائے تواس وقت قرآنی دلائل کو مد نظر رکھاکرو۔اٹکل پچّو باتیں نہ کیا کرو۔ہاں جو ان میں سے شریر او رظالم طبع لوگ ہوں۔انہیں تم الزامی جواب بھی دے سکتے ہو۔اس کے ساتھ ہی انہیں اس طرف بھی توجہ دلاتے رہو کہ آپس میں جھگڑ نے کاکیا فائدہ ؟ تم بھی موحد ہواورہم بھی موحد ہیں۔آئو ہم دونوں فریق مل کر خدائے واحد کی توحید دنیا میں پھیلائیں اورشرک کومٹانے کی کوشش کریں۔(آیت ۴۶،۴۷) پھر بتایاکہ جس طرح موسیٰ ؑ پرتورات نازل ہوئی تھی۔اسی طرح اب تجھ پر قرآن کریم نازل کیاگیا ہے۔اورمسلمان ا س کی صداقت پر کامل یقین رکھتے ہیں۔بلکہ یہودیوں میں سے بھی سعادت مند لوگ اس پر ایمان لارہے ہیں۔لیکن جو لوگ ناشکری پر مصر ہیں وہ قرآن کریم کے بیان کردہ مسائل کاانکار کرتے چلے جاتے ہیں اورکہتے ہیں کہ اس میں تورات اور انجیل کے قصے دوہرائے گئے ہیں۔حالانکہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نزولِ قرآن سے پہلے کسی آسمانی کتاب کی تلاوت نہیں کرتے تھے بلکہ ان کتابوںکو نقل بھی نہیں کرسکتے تھے۔پھر یہ کس