تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 323
فیصلہ کر دیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل میں سے ہی ہوں اوراس طرح خدا تعالیٰ نے حضر ت ابراہیم علیہ السلام کو دنیا میں بڑااجر دیا۔اورآخرت میں بھی وہ بڑے درجات حاصل کرے گا۔(آیت ۲۷و۲۸) پھر لوط ؑ کا ذکر کیاجو ایک ایسی قو م کی طرف رسول بناکربھیجے گئے تھے جوخلاف وضعِ فطرت افعال کی عادی تھی اورڈاکے ڈالتی تھی اور پبلک مقامات میںبھی فواحش کے ارتکاب سے احتراز نہیں کرتی تھی۔حضرت لوط علیہ السلام کے سمجھانے پر ان کی قو م نے یہی کہا کہ اگرتم سچے ہوتو وہ عذاب لائو جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو۔حضرت لوط ؑ نے خدا تعالیٰ سے دعاکی کہ خدایا مجھے اس مفسد قوم کے مقابلہ میں اپنی مددسے سرفراز فرما۔(آیت ۲۹تا۳۱) اللہ تعالیٰ نے اس دعاکو قبول فرمایا اور قومِ لوطؑ کی تباہی کافیصلہ کردیا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ خبر اس علاقے کے بعض برگزیدہ بندوں کودی اوروہ لوگ پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس انہیں حضرت اسحاق ؑ اور یعقوب ؑ کی ولادت کی خوشخبری دینے آئے اورپھر بتایاکہ اللہ تعالیٰ حضرت لوط ؑ کی قوم پر عذاب نازل کرناچاہتاہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام یہ سنکر گھبراگئے اورفرمانے لگے کہ اس بستی میں تولوط ؑ بھی رہتاہے جوخدا تعالیٰ کابرگزیدہ بندہ ہے۔انہوں نے کہا کہ لوطؑ اوراس کے تمام لواحقین اس عذاب سے محفوظ رہیں گے۔صرف اس کی بیوی کے متعلق اللہ تعالیٰ کایہ فیصلہ ہے کہ وہ بھی عذاب کاشکار ہوگی۔(آیت۳۲و۳۳) پھر خدا تعالیٰ کے یہ برگزیدہ بندے حضرت لوط ؑ کے پاس پہنچے۔چونکہ انہیں قو م نے بڑی سختی سے غیر قوموں کے افراد سے تعلق رکھنے اور انہیں اپنے ہاں ٹھہرانے اور ان کی مہمان نوازی کرنے سے منع کیاہواتھا اس لئے جب یہ لو گ آپ کے پاس پہنچے توحضرت لوط ؑ نے پیش آمدہ مخالفت کاتصورکرتے ہوئے تکلیف محسوس کی۔انہوں نے کہا کہ اب کسی خوف کی ضرورت نہیں۔اللہ تعالیٰ اس قوم کی تباہی کافیصلہ کرچکا ہے۔چنانچہ عذاب آیااوروہ لوگ تباہ ہوگئے۔اورآنے والی نسلوں کے لئے ایک عبرت کا نشان قائم کرگئے۔(آیت ۳۴و۳۵) اس کے بعد ہم نے مدین کی طرف شعیبؑ کو رسول بناکربھیجا۔مگرا س قوم نے بھی قومِ لوط ؑ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے حضرت شعیب علیہ السلام کاانکار کردیا۔جس کانتیجہ یہ ہواکہ ایک دل ہلادینے والے عذاب نے ان کوپکڑ لیا۔اسی طرح عاد او ر ثمود بھی ہلاک کئے گئے۔اورقارون اورفرعون اورہامان بھی موسیٰ ؑ کی مخالفت کی وجہ سے تباہ ہوئے مگران میں سے ہرقوم صر ف اپنی ہی نافرمانیوں کی وجہ سے ہلاک ہوئی ہے۔خدا نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا۔(آیت ۳۶تا۴۱)