تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 321

رہناچاہیے۔پھرفرماتا ہے بزدل لوگ بزدلی کی وجہ سے منافق بھی بن گئے ہیں۔اگرمومنوں کو خدا کی مدد آجائے توکہتے ہیں ہم بھی تمہارے ساتھ تھے لیکن وہ اتنابھی نہیں جانتے کہ ایمان کاانعام تو خدا نے دینا ہے محمدؐ رسول اللہ نے نہیں دینا۔اورخداتود ل کی باتوں کوجانتاہے۔محمدؐ رسول اللہ تونہیں جانتے۔پس آرام او رترقی کے راستے کھلے دیکھ کر اپنے متعلق مومنوں کے ساتھ ہونے کادعویٰ کرنے کاکیافائدہ ہو سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ لوگوںکو ضرو رآزمائش میں ڈالے گا۔یہاں تک کہ دنیا پر ظاہر ہوجائے گاکہ مومن کون سے ہیں اورمنافق کون سے۔اوراللہ تعالیٰ کاعلمِ قدیم علم واقعہ سے بدل جائے گا۔تاکہ اس علم کے مطابق اللہ تعالیٰ جو سزایاجزاء دے اس پر کسی کو اعتراض کاموقعہ نہ رہے (آیت ۱۱و۱۲) پھر فرماتا ہے کہ کفر انسان کے دل پر ایسازنگ لگادیتاہے کہ خلافِ عقل باتیں کافر کے منہ سے نکلتی چلی جاتی ہیں۔یہاں تک کہ کافر کہنے لگ جاتے ہیں کہ اگر تم ہمارے پیچھے چلو توہم تمہارے گناہ اٹھالیں گے۔حالانکہ ہرشخص جانتاہے کہ یہ بات ناممکن ہے۔وہ اپنا بوجھ بھی اٹھائیں گے او راس قسم کی دھوکابازی کے بدلہ میں اَوربھی بوجھ ان پر ڈالاجائے گا کیونکہ انہوں نے یہ با ت کہہ کر اَوربھی گناہ کیا ہے۔(آیت ۱۳و۱۴) اس کے بعد حضرت نوح ؑ کا ذکر شروع کیاہے۔جن کے سلسلہ میں حضرت ابراہیم ؑ آئے تھے اورجن کے سلسلہ میں آگے حضرت موسیٰ ؑ آئے۔فرماتا ہے انہوں نے ایک لمبے عرصہ تک دنیا میں تبلیغ کی لیکن لوگوں نے نہ مانا۔آخرخدا تعالیٰ کو انہیں ایک طوفان کے ذریعہ سےتباہ کرناپڑا۔لیکن نوح ؑ او راس کے ساتھیوںکو خدا تعالیٰ نے بچالیا اور آنے والوں کے لئے ایک نشان بنادیا۔(آیت ۱۵و۱۶) پھر ابراہیم ؑ کا ذکرفرماتا ہے او ر بتاتاہے کہ نوح ؑ کے واقعہ سے ابراہیمؑ کے زمانہ کے لوگوں نے فائد ہ نہ اٹھایا۔چنانچہ فرماتا ہے کہ ابراہیمؑ کے زمانہ میں بھی لوگوں نے شرک کرناشروع کردیا۔اورابراہیمؑ نے اپنے زمانہ کے لوگوں سے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور خدا تعالیٰ کاتقویٰ اختیار کرو۔اگرتمہیںکچھ بھی علم ہو توا س نصیحت پر عمل کرنا تمہارے لئے بہت بہتر ہوگا۔تم اتنا تو سوچو کہ تم خدا کو چھو ڑکر بتوںکوپوجتے ہو او رخدا تعالیٰ پر ان کے بارہ میں افتراء باندھتے ہو اور یہ نہیں سمجھتے کہ تم تو اپنی زندگی کے لئے رزق کے محتاج ہو اور تمہارے معبود رزق دینے کی طاقت نہیں رکھتے۔رزق اللہ تعالیٰ ہی دیتاہے جوآسمان سے پانی اتارتاہے اورزمین سے غلّہ اگاتاہے۔پس جو رزق دیتاہے اسی کی طرف توجہ کرو۔اوراس کی عبادت کروکیونکہ آخر تم نے اسی کے پاس جاناہے۔اگرتم اس بات کو نہیں مانوگے تویاد رکھو کہ پہلی قومیں بھی شرک کرتی آئی ہیں اور تمہیں پتہ ہے کہ ان کے شرک