تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 317
تم حملہ کرتے ہو توتمہاراحملہ مرزا غلام احمدؐ پر نہیں بلکہ خدا پر ہوتاہے کیونکہ خدا نے میرے وجود کو اپنا لیا ہے۔پرانے زمانہ میں طریق تھا کہ بادشاہ ایک بکرالے کر اس کو کھلاچھوڑ دیتے تھے۔کہ جو اس پر حملہ کرے گا و ہ ہم پر حملہ کرنے والا سمجھاجائے گا۔وہ تمام ملک میں آزاد پھرتاتھا اورکوئی اس کو چھیڑنے کی جرأت نہیں کرتاتھا۔اوراگرکسی علاقہ میں وہ ماراجاتا توبادشاہ اس پر چڑھائی کردیتاتھا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کے بعض بندے اس کے اتنے پیارے اور محبوب ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ان پر حملہ اپنی ذات پر حملہ سمجھتاہے۔قرآن کریم میں اسی قسم کاایک واقعہ حضرت صالح علیہ السلام کابیان کیاگیا ہے۔حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی اونٹنی کے متعلق لوگوں میں اعلان کردیا کہ دیکھنا اس کو نہ چھیڑنا۔ورنہ تم اللہ تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار ہوجائو گے۔اس کامطلب در حقیقت یہی تھا کہ جس طرح حضرت صالح ؑ خداکے ہوگئے تھے اسی طرح خداصالح ؑ کاہوگیاتھا جس طرح حضرت صالح ؑ کے بغیر خداظاہر نہیں ہوسکتاتھا۔اسی طرح اونٹنی کے بغیر صالح ؑ بھی تبلیغ نہیں کرسکتے تھے۔پس جو اونٹنی کومارتاتھا وہ اس لئے نہیں مارتاتھاکہ وہ ایک اونٹنی ہے بلکہ اس لئے مارتاتھا کہ صالح ؑ تبلیغ نہ کرے۔اورجو صالح ؑ کومارتاتھاوہ اس لئے نہیں مارتاتھاکہ صالح ؑ اورافراد کی طرح ایک فرد ہے بلکہ اس لئے مار تاتھاکہ صالح ؑ کے ذریعہ خدا تعالیٰ کاچہرہ دنیا پرظاہرنہ ہو۔اس لئے جن لوگوں نے اونٹنی پر حملہ کیا۔انہوں نے اونٹنی پر نہیں بلکہ صالح ؑپر حملہ کیااورخدا نے انہیں اپنے غضب کا نشانہ بنادیا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کہاتھا کہ تم نے اونٹنی کو ما رکرصالح ؑ کومارا۔اورصالح ؑ کو مار کر مجھے مارا۔پس ایسے وجود چونکہ خدا تعالیٰ کے وجود میں ہی شامل ہوتے ہیں۔اس لئے اِلَّاوَجْھَہٗ فرماکران کااستثنیٰ کردیاگیاہے۔اورانہیں دائمی حیات کاوارث قرار دے دیاگیاہے۔پھر كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ کے ایک یہ بھی معنے ہیں کہ جس چیز میں اللہ تعالیٰ کاوجہہ نظر آتارہے۔یعنی وہ اپنی غرضِ پیدائش کو پوراکرتی رہے وہ محفوظ رہتی ہے۔ورنہ ہلاک ہوجاتی ہے۔اس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ کائنا ت کا ہر ذرہ وجودِ باری کو ظاہر کرنے والا ہے اور اس میں خدا تعالیٰ کاچہر ہ نظر آتاہے۔کسی میں رحمت کااور کسی میں غضب کااور کسی میں ربوبیت کا او رکسی میں حفاظت کا اور کسی میں قضا و انصاف کا۔اگرکہوکہ کیا گندی چیزوں میں بھی خدا کاچہرہ نظرآتاہے تواس کا جواب یہ ہے کہ چہرہ سے مراد ظہور ِ صفات ہے ورنہ یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالیٰ کاکوئی حقیقی چہرہ ہے۔اوراس میں کیا شبہ ہے کہ گندی اورپاک دونوں چیزوں سے خدا تعالیٰ کی صفات کاظہور ہورہاہے۔صرف ظہورمختلف قسم کا ہے۔ہاں انسان ایک وقت میں صرف ایک ہی صفت کو نمایاں طورپر ظاہرکرسکتاہے یاچند صفات ظاہر کرسکتاہے لیکن اللہ تعالیٰ ایک ہی وقت میں غضب اوررحم اور باقی سب صفات ظاہرکررہاہوتاہے۔پس یہ