تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 314
نزول نہیں ہوگا۔آیاتِ الٰہیہ کاہرزمانہ میں مختلف شکلوں میں نزول ہوتاچلاجائے گا۔کبھی مجددین کی شکل میں۔کبھی مامورین کی شکل میں اور کبھی معجزات ونشانات اورآسمانی تائیدات کی شکل میں اس لئے جب بھی تم پر خدا تعالیٰ کی آیات نازل ہوں یعنی تمہارے زمانہ میں تمہاری ترقی اوربہتری کے لئے خدا تعالیٰ مختلف نشانات کے آئینہ میں اپنی شکل دکھائے توان پرایمان لانے کے سلسلہ میں کوئی روک تمہارے راستہ میں حائل نہیں ہونی چاہیے۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ جب آخری زمانہ میں مسیح موعود آئے او رتمہارے کانوں میں اس کی آواز پہنچے توتم فوراًاس کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس کی طرف دوڑ پڑو۔خواہ تمہیں گھٹنوں کے بل چل کرہی اس کے پاس کیوں نہ جانا پڑے۔وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ اور پھر ایمان لانے کے بعد تمہاراکام یہ ہے کہ تم دوسرے لوگوں کو بھی اس نعمت میں شریک کرو۔اورانہیں خدا تعالیٰ کے مامور پر ایمان لانے کی تحریک کرو۔اورتبلیغ کے سلسلہ کو وسیع کرو۔وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ اورمشرکوں میں شامل نہ ہو۔اس جگہ بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب نہیں بلکہ آپؐ کی امت سے خطاب کیاگیا ہے۔ورنہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تونہ نبوت سے پہلے کبھی شرک کیاتھا اورنہ نبوت کے بعد آپؐ نے کبھی شرک کیا۔پس اس آیت کی مخاطب آپ کی جماعت ہے۔اوراللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ آیات الٰہیہ کاانکار اور تبلیغ میں کوتاہی بھی اپنے اندر شرک کا ہی ایک رنگ رکھتی ہے۔کیونکہ آیات الٰہیہ کاانکار وہی شخص کرتاہے جوڈرتاہے کہ اگر میں نے اپنے ایمان کااظہار کیاتولوگ میری مخالفت کے لئے کھڑے ہوجائیں گے۔اسی طرح تبلیغ سے بھی وہی شخص بھاگتاہے جولوگوں کی مخالفت اور ان کی ایذارسانی سے گھبراتاہے اوریہ دونوں چیزیں اپنے اندر شرک کاایک رنگ رکھتی ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے نصیحت فرمائی کہ تم مشرکوں میں سے مت بنو۔دلیری سے آیاتِ الٰہیہ پر ایمان لائو۔اورپھر دلیری سے ان کی دنیا میں اشاعت کرو۔اوراپنی نگاہیں ہمیشہ آسمان کی طرف بلندرکھو۔زمینی لوگوں سے مت ڈرو کہ یہ بھی ایک مخفی شرک ہے۔