تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 311
کوجورحمت کاپیغام تھا قبول نہیں کریں گے بلکہ اسے مٹانے کی کوشش کریں گے تواللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ ایک آتشی شریعت یعنی تلوار دیگا اورآخر مکہ کے لوگ تلوار کے آگے اپناسر جھکادیں گے۔یہ پیشگوئی جوبائیبل میں پائی جاتی ہے اس کی طرف یہود کے اہل علم طبقہ کی نگاہ رسول کریم صلی اللہ عیہ وسلم کی بعثت سے پہلے ہی اٹھ چکی تھی۔چنانچہ اس کاثبوت اس سے ملتاہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی دفعہ وحی نازل ہوئی توآپ گھبراگئے اورآپ نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے اس کا ذکرکیا۔وہ آپ ؐ کو اپنے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جوصحفِ انبیاء سے خوب واقف تھااور کہا کہ ان کے پاس اپنی کیفیت کا ذکر کریں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں باتیں بتائیں کہ کس طرح ان پر وحی نازل ہوئی ہے توورقہ بن نوفل نے کہا۔کاش میں اس وقت جوان ہوتا اِذْ یُخْرِجُکَ قَوْمُکَ۔جب تیری قوم تجھے مکہ سے نکال دے گی۔اس سے معلوم ہوتاہے کہ صحف سابقہ کی یہ پیشگوئیاں ان کے ذہن میں تھیںکہ عرب میں ایک عظیم الشان نبی پیدا ہوگاجسے اس کی قوم کے لوگ اپنے شہر میںسے نکال دیں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ بات سنی توآپؐ سخت حیران ہوئے کیونکہ اس وقت تک ابھی آپ نے کوئی دعویٰ نہیں کیاتھا اورساراعرب آپ کو راستباز اور امین سمجھتااور آپ کو عزت کے مقام پر بٹھاتاتھا۔اسی حیرت کے عالم میں آپؐ نے ورقہ بن نوفل سے کہا۔اَوَ مُخْرِجِیَّ ھُمْ کیامیری قو م مجھے نکال دے گی ؟ انہوں نے کہا۔ہاں!ضرور نکال دے گی (بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف بدءالوحی)۔اس سے معلوم ہوتاہے کہ اس پیشگوئی کی طرف پہلے ہی واقف لوگوں کے ذہن منتقل ہوچکے تھے کہ عرب میں ایک عظیم الشان نبی آئے گا جوموسیٰ ؑ کامثیل ہوگا۔اس کی قوم کے لوگ اسے اپنے شہر سے نکال دیں گے۔پھر وہ کسی اَور مقام میں پناہ لے گااوروہاں سے طاقت حاصل کرکے مکہ فتح کرے گا۔چنانچہ جب اس پیشگوئی کے ظہورکا وقت آیا توابھی آپ مکہ میں ہی تھے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خبر دی کہ اِنَّ الَّذِيْ فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ یعنی وہ خداجس نے تجھ پر قرآن کی اطاعت فرض کی ہے اپنی ذات کی قسم کھا کرکہتاہے کہ خداتجھے پھر اس شہر کی طرف واپس لائے گا جس کی طر ف لوگ با ربار لوٹ کر آتے ہیں۔یعنی اب تیری ہجرت کا زمانہ قریب آچکا ہے اورتجھے مکہ سے نکال کردشمن خوش ہوگاکہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا مگرتیراخداہجر ت سے بھی پہلے خوشخبری دیتاہے کہ وہ پھر تجھے اس مقام میں واپس لائے گا اوردشمنوں کی جھوٹی خوشیوں کوپامال کردے گا۔قُلْ رَّبِّيْۤ اَعْلَمُ مَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى وَ مَنْ هُوَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۔فرماتا ہے اے محمدؐ رسول اللہ تُوان لوگوںسے کہہ دے کہ جوہدایت لاتاہے اس کو بھی اور جوگمراہی میںپڑاہواہے اس کوبھی اللہ تعالیٰ خوب جانتاہے پھر یہ کس