تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 310

کے نواح میں آباد ہوئی۔لیکن قیدار کی اولاد مکہ کے نواح میں بسی۔قریش مکہ اسی کی نسل سے تھے (البدایة و النھایة ذکر اخبار العرب و تاریخ ابن خلدون جزء ثانی الخبر عن بنی عدنان و انسابھم)۔حضرت یسعیاہ نے دوان اورتیما کی نسلوں کو جونواح مدینہ میں آباد تھیں بتایاکہ ایک زمانہ میں قریش کے مظالم اور ان کی شب و روز کی جنگ کے نتیجہ میں آخر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ کو مدینہ کی طرف ہجرت کرنی پڑے گی۔تمہارافرض ہے کہ تم ان کے استقبال کے لئے آگے بڑھو۔اوراپنی آنکھوںکو فرش راہ کرو۔اورروٹی اورپانی لے کر ان کے ملنے کو نکلو۔یعنی اپنے گھروں کے دروازے ان کے لئے کھول دو۔اور ان کی خدمت کو اپنے لئے برکت او ررحمت کاباعث سمجھو۔چنانچہ اس پیشگوئی کے مطابق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر ؓ کو ساتھ لے کر مکہ سے نکلے اورایسی حالت میں نکلے جب کہ ننگی تلواروں کے ساتھ دشمن نے آپ کے مکان کامحاصرہ کیاہواتھا۔اوروہ چاہتاتھاکہ آپ کاخاتمہ کردے مگراللہ تعالیٰ نے ایسی قدرت نمائی فرمائی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سامنے سے نکل آئے اور انہیں خبر تک نہ ہوئی۔پھراس پیشگوئی میں یہ بھی بتایاگیا تھا کہ اس ہجرت کے ٹھیک ایک سال بعد آپؐ کے اورآپؐ کے دشمنوں کے درمیان ایک جنگ ہو گی جس میں دشمن شکست کھائے گا۔قریش کاتمام رعب و دبدبہ خاک میں مل جائے گا۔چنانچہ عین ایک سال کے بعد جنگ بد رہوئی جس میں اسلام کو عظیم الشان فتح حاصل ہوئی اور قریش مکہ اپنے کمانڈر اورجرنیلوں کی لاشیں میدان جنگ میں چھوڑ کر ہی بھا گ کھڑے ہوئے (بخاری کتاب المغازی باب دعا النبی علی کفار قریش)۔پھر یہ تو ہجرت کی خبر تھی۔فتح مکہ کی خبر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان الفا ظ میں دی کہ ’’خداوند سیناسے آیا۔شعیر سے ان پرطلوع ہوااورفاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گرہوا۔دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا۔اور اس کے داہنے ہاتھ ایک آتشی شریعت ان کے لئے تھی۔‘‘ (استثناء باب ۳۳آیت ۱و۲) اس آیت میں فاران سے ظاہر ہونے والے جس موعود کی پیشگوئی کی گئی تھی وہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں اوربتایاگیاتھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار صحابہؓ کے لشکر کے ساتھ مکہ میں اس طرح داخل ہوں گے کہ ان کے داہنے ہاتھ میں ایک آتشی شریعت ہوگی آتشی شریعت سے مراد دلوں کوصاف کرنے والی شریعت بھی ہوسکتی ہے اوراس موقعہ کے مناسب اس کے معنے تلوار کے بھی ہوسکتے ہیںکہ جب مکہ والے قرآن کی حکومت