تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 304

تھیں۔ایک یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کومکہ سے ہجرت کرنی پڑے گی اور دوسری یہ کہ ہجرت کے بعد آپ پھر ایک فاتح کی صورت میں مکہ مکرمہ میں داخل ہوں گے۔یہ آیت قرونِ اولیٰ میں اتنی دوہرائی جاتی تھی اورا تنی اہم سمجھی جاتی تھی کہ بعض بیوقوفوں کو اس سے بڑے بڑے دھوکے بھی لگ گئے۔چنانچہ عبداللہ بن سباجو اس موومنٹ کابانی تھا جس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا۔جس نے اسلام میں ایک بہت بڑافتنہ برپاکیااور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے لڑائیاں کیں۔وہ اسی آیت کو پیش کرکے کہاکرتاتھاکہ اسلام تناسخ کاقائل ہے۔وہ کہتاتھا کہ اِنَّ الَّذِيْ فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ میںمَعَادٍ سے مراد دنیا ہے اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ و ہ دوبار ہ دنیا میں آئیں گے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انبیاء کی تمثیلیں دنیا میں آتی رہتی ہیں۔اگرانبیاء کی تمثیلیں نہ آئیں تو دوسروں کی تمثیلوں سے کیا فائد ہ؟ دنیا میںا گریہ ایک سچی حقیقت ہے جو انگریزی زبان میں بیان کی جاتی ہے کہ HISTORY REPEATS ITSELF ’’تاریخ اپنے آپ کو با رباردوہراتی ہے ‘‘۔تویقیناً انبیاء بھی بار بار تمثیلی طور پر دنیا میں ظاہر ہوتے ہیں۔اور ظاہر ہوتے رہیں گے۔اوردرحقیقت اگر کوئی چیز دوبار ہ واپس لانے کے قابل ہوتی ہے تواچھی چیز ہی ہوتی ہے لیکن اس آیت میں کسی تناسخ کا ذکر نہیں اورنہ معادٍ سے مراد دنیا ہے۔بلکہاِنَّ الَّذِيْ فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ میں درحقیقت یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کریں گے اورپھر اس شہر میں واپس آئیں گے جس کوعباد ت کامرکز بنایاگیاہے۔اورجس کی طرف با ربا ردنیا حج او رعمر ہ کے لئے آتی ہے۔گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی مکہ میں ہی تھے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ خبر دی کہ ایک دن کفار تجھے اپنے وطن سے نکلنے پرمجبور کردیں گے۔مگروہ خداجس نے تجھ پر قرآن نازل کیا اوراس کی اطاعت فرض کی ہے تجھ سے قسم کھا کر وعدہ کرتاہے کہ جب دشمن تجھے تیرے وطن سے نکال دے گا تو ہم پھر تجھے تیرے وطن میں لے آئیں گے۔غورکرو اور سوچو کہ اس آیت میں آپ کی مکہ سے ہجرت کی خبر کس لطیف پیرایہ میں دی گئی ہے۔بجائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ یہ فرماتاکہ ایک دن تجھے ہجرت کرنی پڑے گی اوراس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حساس دل کوصدمہ پہنچتا اس نے پہلے ہی آپؐ کو واپس آنے کی خوشخبری دیدی۔اور چونکہ واپس وہی آسکتاہے جو گیاہو اس لئے ضمنی طور پر اس میں یہ بھی بتادیا کہ ایک دفعہ آپ کو مکہ سے ہجرت کرنی پڑے گی۔اورموسیٰ ؑ کے ساتھ آپ کی مماثلت ظاہرہوجائے گی۔سورئہ قصص کے مکی ہونے کے متعلق مسلمان علماء تو متفق ہی ہیں لیکن عیسائی مصنفین بھی اسے مکی تسلیم کرتے