تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 302

صرف اپنے عمل کے مطابق بدلہ ملتاہے یوں تودنیا میں جو بھی نیک کام کیاجائے اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ طاقتوں سے ہی کیا جاتا ہے اوراس نقطہء نگاہ سے اگر عملِ نیک کی کوئی بھی جزانہ دی جاتی توکوئی قابلِ اعتراض امر نہ تھا کیونکہ جن سامانوں سے کام لے کر نیک کام کئے جاتے ہیں وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کے پیداکردہ ہیں۔اگرہاتھ سے کوئی شخص نیکی کاکام کرتاہے توہاتھ اس کے بنائے ہوئے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے ہیں۔ہاتھ کے اندر جوکام کرنے کی طاقت پائی جاتی ہے وہ بھی خدا تعالیٰ کی ہی پیداکی ہوئی ہوتی ہے اس کی اپنی نہیں۔پھراگرہاتھ سے اس نے کسی پیاسے کو پانی پلایاہے توپانی بھی خدا تعالیٰ کاپیداکردہ ہے۔گلاس جس دھات سے بنایاجاتاہے وہ بھی خدا تعالیٰ کی پیداکردہ ہے اورپھروہ دماغ جس کے اند رنیکی کایہ جذبہ پیداہواوہ بھی خدا تعالیٰ کاہی پیداکردہ ہے۔پس جب شروع سے لے کرآخر تک ہرچیز خدا تعالیٰ ہی کی ہے اور اس کی دی ہوئی طاقتوں سے کام لے کر عملِ نیک کیا جاتا ہے تواگروہ خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان بھی قربان کردیتاہے توبوجہ اس کے کہ اللہ تعالیٰ انسان کاخالق ہے اوراس کی مملوکہ اشیاء کا بھی مالک ہے انسان اپنے اعمال کے بدلہ میں کسی انعام کامستحق نہیں ہوسکتا۔جیساکہ غالب نے کہا ہے۔؎ جان دی دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا (شرح دیوان غالب صفحہ ۸۳) یعنی اگرجان بھی انسان خدا تعالیٰ کی راہ میں دے دے تواس کایہ فعل کوئی قربانی نہیں کہلاسکتا۔کیونکہ جان خدا تعالیٰ نے ہی دی تھی۔اگرکسی کی چیز انسان نے ا س کو واپس کردی اوروہ بھی سالہاسال کے استعمال کے بعد تواس صورت میں بھی وہ خدا تعالیٰ کا ہی ممنون احسان ہوتاہے وہ یہ نہیں کہہ سکتاکہ اس نے کوئی کام کیا ہے لیکن باوجود اس کے کہ تمام نیک اعمال خدا تعالیٰ کی دی ہوئی طاقتوں سے عمل میں لائے جاتے ہیںاوراگران اعمال کاکوئی بھی بدلہ نہ ملے تب بھی درست ہے لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی ملکیت کا اس رنگ میں اظہار نہیں کیا کہ وہ انسان کے اعمال کو بدلہ سے محروم کردے بلکہ اس رنگ میں کیا ہے کہ وہ انسانی اعمال کا ان کے مناسب معاوضہ سے زیادہ بدلہ دے۔اورباوجود اس کے کہ سب اعمال حسنہ اسی کی دی ہوئی توفیق سے انسان بجالاتاہے پھر بھی اللہ تعالیٰ ایسا ہی قرا ر دیتاہے کہ گویاانسان نے وہ نیک عمل اپنی طاقت اوراپنے سامانوں سے کئے ہیں اورنہ صرف یہ کہ اس کے عمل کاپورابدلہ دیتابلکہ اپنے پاس سے زائد نعمتیں بھی عطافرماتا ہے۔لیکن اس کے مقابلہ میں جب کوئی شخص گناہ کرتاہے تو