تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 293

کامیابی حاصل کرنے کے سامان اورذرائع خدا تعالیٰ مہیاکرتاہے بلکہ ہرکام کانتیجہ بھی خدا تعالیٰ ہی پیداکرتاہے۔آخرایسابھی تو ہوتاہے کہ ایک شخص ساراسال لوہارے کاکام سیکھتاہے لیکن وہ سیکھ نہیں سکتا۔پھرایسابھی توہوتاہے کہ ایک کاریگرہوتاہے لیکن اسے کوئی کام نہیں ملتا۔پھر یہ بھی توہو سکتا ہے کہ روپیہ مل جائے توکوئی ڈاکو اس کا ساراروپیہ چھین لے۔پھر یہ بھی توہو سکتا ہے کہ وہ کما کر اپنے گھرروپیہ لے آئے۔لیکن گھر میں آتے ہی اس کے پیٹ میں درد اٹھے اوروہ جانبر ہی نہ ہوسکے۔پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اسے ایسی جلدی بیماری پیداہوجائے کہ وہ کپڑانہ پہن سکے۔پس جوکچھ ہوتاہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوتاہے۔اگر کوئی انسان اپنی محنت سے بھی روزی کمائے تب بھی اسے جوکچھ ملتاہے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی ملتاہے۔اوراس کافرض ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ اسے جتنا بڑابنائے اتناہی وہ جھکتاچلاجائے۔دیکھو جس پر بوجھ زیادہ ہوتاہے وہ دوسروں کی نسبت زیادہ جھکاہواہوتاہے۔اسی طرح کسی کو دولت کامل جاناایسا ہی ہے جیسے کسی کے سرپر بوجھل گٹھڑی رکھی ہوئی ہو۔ایسی حالت میں اس کے اندر زیادہ فروتنی اورزیادہ انکسار پایاجاناچاہیے نہ یہ کہ وہ متکبرہوجائے اوردوسروں کو ذلیل سمجھنے لگے۔بہرحال جو شخص دولت و ثروت اورعزت کو خدا تعالیٰ کاانعام سمجھے گا وہ دوسروں کی نسبت زیادہ جھکے گا اورجواس کواپناذاتی کمال قرار دے گا و ہ تکبر میں مبتلاہوگا اورآخرخدا تعالیٰ سے دور چلاجائے گا۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے تکبرکوشدید طورپر ناپسند کیا ہے اسلام یہ نہیں کہتاکہ تم اپنی ترقیات کے لئے کوشش نہ کرو۔تم اپنی ترقیات کے لئے جتنی بھی کوشش کرو۔جائز ہے مگر اس کے بعد تمہیں جتنی بھی ترقی ملے اتنا ہی اپنے آپ کو متواضع بنائو۔ورنہ اگرتم متکبر ہوگئے تو خدا تعالیٰ تم سے خو ش نہیں ہوگا بلکہ ناراض ہوگا اوروہ ترقی تمہارے لئے رحمت کاموجب نہیں بلکہ ابتلاء کاموجب ہوگی اور تم آئندہ کے لئے انوار سماوی سے محروم ہوجائو گے۔حدیثوں میں آتاہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دفعہ ایک شخص آیا اور اس نے کہا۔یارسو ل اللہ! مجھے سخت مالی تنگی ہے۔آپ دعافرمائیں کہ اللہ تعالیٰ کشائش رزق کے سامان پیدافرمائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاکی اور آخر آپ کی دعاکی برکت سے وہ اس قدر امیرہوگیا کہ ساری وادی اس کے جانوروں سے بھر جاتی تھی شہروں میں رہنے والے شائد اس امر کو نہ سمجھ سکیں کہ ایک شخص کے پاس اتنے جانور کہاں سے آسکتے ہیں۔مگرگائوں کے رہنے والے جانتے ہیں کہ ایک ایک آدمی کے پاس کس قدرجانور ہوتے ہیں۔میں ایک دفعہ سلسلہ کی زمینوں کے معائنہ کے لئے سندھ گیا۔تو ایک جگہ میں نے تین چار سوجانور دیکھے۔میں نے ان جانوروں کو دیکھ کر پوچھا کہ کیایہ اس گائوں کے جانور ہیں؟اس پروہاں کامنیجر ہنسااورکہنے لگا کہ یہ توصرف ایک آدمی کے جانور ہیں۔لیکن شہریوں کے لئے ایک گائے یاایک بھینس کارکھنابھی مشکل ہوتاہے۔تواس کے پاس اس قدر جانو رہوگئے