تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 291
اورطاقتوں سے تونے کمایاہے اورجن چیزوںکے ذریعہ سے تونے عزت اورشہرت حاصل کی ہے وہ سب کی سب اللہ تعالیٰ کی پیداکردہ ہیں۔اورتجھے بطور احسان ملی ہیں۔پس جس طرح تجھ پر احسان کیاگیا ہے۔تیرابھی فرض ہے کہ تُو لوگوں سے احسان کے ساتھ پیش آ۔اورزمین میں فساد پھیلانے کی کوشش نہ کر۔کیونکہ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ اللہ تعالیٰ شریر اورمفسد لوگوں کو پسند نہیں کرتا۔آخر یہ سیدھی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کاخالق اوراس کارب ہے۔جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں فساد برپاکرنے کی کوشش کرے گا تواس مخلوق کاخالق اوررب فساد کرنے والے سے کس طرح محبت کرے گا؟اگرکسی بچہ سے انسان کو نفرت ہوتو اس کی ماں کبھی نفرت کرنے والے سے پیار نہیں کرسکتی۔جب تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی ہے تو صاف ظاہر ہے کہ جوشخص فساد ڈلواتاہے اورلوگوں کی آپس میں لڑائیاں کرواتارہتاہے خدا تعالیٰ اسے کبھی پسند نہیں کرسکتا۔انگریزی میں ایک حکایت مشہور ہے کہ کسی شخص کو ایک عورت سے عشق ہوگیا۔وہ عورت بیوہ تھی اوروہ اس سے شادی کرناچاہتاتھا۔مگریوروپین طریق کے مطابق خالی پیغام سے شادی نہیں ہوسکتی تھی۔ضروری تھا کہ پہلے اسے اپنی طرف متوجہ کیاجائے۔کیونکہ یورپ کے لوگوں میں مرد عورت کی دوستی کے بعد شادی ہوتی ہے پہلے نہیں۔وہ اسے اپنی طرف راغب کرنے کی بڑی کوشش کرتا مگراسے کامیابی حاصل نہ ہوتی۔آخر اس نے اپنے کسی دوست سے ذکر کیا کہ مجھے اس اس طرح فلاں عورت سے محبت ہے اور میں اسے شادی کرناچاہتاہوں مگر وہ میری طرف توجہ ہی نہیں کرتی۔اس نے کہا۔عورت کاکوئی بچہ ہے یانہیں۔اس نے کہابچہ توہے۔اس نے کہا توپھرمحبت میں کون سی مشکل ہے۔بچہ کو اٹھاکر اس سے چند دن پیار کرو۔عورت تم سے خود بخود بے تکلف ہوجائے گی۔توجس سے کسی کو محبت ہو اس سے نفرت رکھنے سے کبھی اس شخص کی محبت حاصل نہیں کی جاسکتی۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ’’خاکم نثارِ کوچہء آلِ محمدؐ است ‘‘ (درثمین فارسی صفحہ ۸۹) اب آل محمد ؐمیں اچھے بھی ہوتے ہیں اوربر ے بھی۔مگر اس وجہ سے کہ وہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے حصول کا ایک طریق یہ بھی ہے کہ انسان ان سے محبت کرے۔یہ خیال کرنا کہ آل محمدؐ سے بے شک محبت نہ ہو لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت مجھے حاصل ہوجائے گی غلط ہے۔اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ فرماکر اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اگرتم فساد کروگے توتمہیں