تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 290

ہے۔پھر زکوٰۃ کے متعلق اسلام یہ کیوں ہدایت دیتاکہ خُذْ مِنْ اَمْوَالِھِمْ صَدَقَۃً تُطَھِّرُھُمْ وَتُزَکِّیْھِمْ بِھَا (التوبۃ : ۱۰۳) یعنی اے رسول! ان کے مالوں میں سےصدقہ لے تاکہ تُوانہیں پاک کرے اوران کی ترقی کے سامان مہیا کرے۔پھراگرخدا تعالیٰ یہ چاہتاکہ صرف دین ہی اختیار کیاجائے اوردنیاسے مونہہ موڑ لیاجائے تووہ یہ کیوں فرماتاکہ اگرتم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی بدلنا چاہواور تم ان میں سے ایک کوڈھیروں ڈھیرسونابھی دے چکے ہوتواس سے واپس مت لو (النساء آیت ۲۱)اگرمال اپنے پاس رکھنا ہی نہیں توحج کس طرح کیاجاسکتاہے زکوٰۃ کس طرح کی جاسکتی ہے اوراپنی بیوی کو ڈھیروں ڈھیرسوناکس طرح دیاجاسکتاہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دنیا میں بعض ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جنہیں خدا تعالیٰ نے لوگوں کے لئے نمونہ کے طور پر پیدا کیاہوتاہے۔میں نے خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے سنا ہے کہ کسی نے ایک بزرگ سے سوال کیا کہ کتنے رپوئوں پرزکوٰۃ فرض ہے۔انہوں نے جواب دیا کہ تمہارے لئے یہ مسئلہ ہے کہ تم چالیس روپے میں سے ایک روپیہ زکوٰ ۃ دو۔اس نے کہا۔’’تمہارے لئے ‘‘کاکیامطلب ہے۔کیازکوٰۃ کامسئلہ بدلتارہتاہے ؟انہوں نے کہا۔ہاں۔تمہارے پاس چالیس روپے ہوں تو ان میں سے ایک روپیہ زکوٰۃ دینا تمہارے لئے ضروری ہے۔لیکن اگر میر ے پاس چالیس روپے ہوں تو مجھ پر اکتالیس روپے دینے لازمی ہیں کیونکہ تمہارامقام ایساہے کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم کمائو اورکھائو۔لیکن مجھے وہ مقام دیا ہے کہ میرے اخراجات کاوہ آپ کفیل ہے۔اگربیوقوفی سے میں چالیس روپے جمع کرلوں تومیں وہ چالیس روپے بھی دوں گااور ایک روپیہ جرمانہ بھی دوں گا۔غرض بعض لوگوں کافرض ہوتاہے کہ وہ صرف دین کی طرف اپنی توجہ رکھیں۔لیکن باقی دنیاکاصرف یہی مقا م ہے کہ وہ دنیا کمائیں اور اپنے مال اور وقت کاکچھ حصہ مناسب نسبت کے ساتھ عبادت اوردین کے کاموں میں بھی لگائیں۔وہ ذکر الٰہی کریں۔وظائف کریں۔تہجد پڑھیں اوراستغفاراوردعائوں سے کام لیں۔قارون کو بھی اس کی قوم کے نیک افراد نے بھی یہی نصیحت کی کہ ہم تمہیں یہ نہیں کہتے کہ تم اپنی دولت خدا تعالیٰ کے لئے خرچ کردو بلکہ ہماری نصیحت یہ ہے کہ تمہارااصل مقصد تودارِ آخرت ہوناچاہیے۔اوراسی کے لئے تمہیں اپنے اموال خرچ کرنے چاہئیں۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی اوراپنے خاندان کی ترقی کے لئے بھی بیشک کوشش کرو۔اوراپنے اموال کاایک حصہ اس کے لئے مخصوص کرلو۔یہ ناجائز امر نہیں۔ناجائز امر یہ ہے کہ تم خدا کو بھول جائو۔اورصرف دنیا کوہی اپنامطلوب قراردے دو۔پھر انہوں نے کہا۔اَحْسِنْ کَمَااَحْسَنَ اللّٰہُ اِلَیْکَ تُولوگوں سے نیک سلوک کر۔اوران کو اپنے مال اور اپنے علم اوراپنے رسوخ میںشریک کر۔کیونکہ تجھ پر اللہ تعالیٰ نے احسان کیا ہے۔یعنی جن قوتوں