تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 289
وَ ابْتَغِ فِيْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ اورجوکچھ تجھے اللہ(تعالیٰ) نے دیاہے اس سے اخروی زندگی کے گھرکی تلاش کر۔اوردنیوی زندگی سے تجھے جو حصہ نَصِيْبَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَيْكَ وَ ملاہے اسے بھی بھول نہیں اور(ہم تجھے ایک حد تک دنیا کی آسائشوں کے استعمال سے نہیں روکتے )اورجس طرح لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِيْنَ۰۰۷۸ اللہ(تعالیٰ) نے تجھ پراحسان کیاہے توبھی لوگوں پر احسان کر۔اورملک میں فساد پھیلانے کی کوشش نہ کر۔اللہ (تعالیٰ)یقیناً مفسدوں کوپسند نہیں کرتا۔تفسیر۔اس کی قوم نے اسے یہ بھی کہا۔کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تجھے دولت بخشی ہے اس سے اپنے اخر وی گھر کو زیادہ سے زیادہ اچھا بنانے کی کوشش کر۔ہاںدنیا میں سے بھی اپنا حصہ نہ چھوڑکیونکہ سچامذہب میانہ روی کو پسند کرتاہے۔وہ یہ نہیں چاہتاکہ انسان دنیاکو بالکل ہی چھو ڑ دے۔بلکہ وہ چاہتاہے کہ انسان دنیا بھی کمائے اوردینی کاموں میں بھی حصہ لے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام فرمایاکرتے تھے کہ مجھے ایک صوفی کایہ قول بہت پسند ہے کہ ’’دست در کار و دل بایار ‘‘ یعنی اصل طریق یہی ہے کہ انسان دنیا کے کام بھی کرے اورخدا تعالیٰ کو بھی یاد رکھے۔لیکن پرانے لوگوں میں سے بعض نے یہ سمجھ رکھاتھا کہ دست د رکار نہیں ہوناچاہیے جس کی وجہ سے انہوں نے اپنی زندگی کوضائع کردیا اور بعض نے یہ سمجھ لیا کہ دل بایار نہیں ہوناچاہیے صرف دست درکار ہوناکافی ہے۔گویادنیا میں دوکیمپ بن گئے۔ایک کیمپ والے دین کو بیکار سمجھنے لگ گئے اور دوسرے کیمپ والے دنیا کو بے کار سمجھنے لگ گئے حالانکہ صداقت ان دونوں کے درمیان درمیان تھی۔صداقت یہ تھی کہ دین کےساتھ دنیا کی طرف بھی توجہ رکھی جائے اوردنیاسے بالکل ہی منہ نہ موڑ لیاجائے۔لیکن ہوایہ کہ ایک فریق توخالص دنیاساتھ لے گیا۔اورایک فریق نے خالص دین لے لیا اورانہوں نے یہ نہ سمجھا کہ اگرخالص دین کی طرف ہی توجہ رکھنی ضروری ہوتی تو خدا تعالیٰ یہ کیوں فرماتاکہ وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا( اٰل عمران :۹۸)کہ جو لوگ استطاعت رکھیں ان پر حجِ بیت اللہ کرنافرض