تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 286

بنی لاوی سنو! کیایہ تم کو چھوٹی بات دکھائی دیتی ہے کہ اسرائیل کے خدا نے تم کو بنی اسرائیل کی جماعت میں سے چن کر الگ کیا تاکہ تم کو وہ اپنی قربت بخشے اور تم خداوند کے مسکن کی خدمت کرو۔اورجماعت کے آگے کھڑے ہوکر اس کی بھی خدمت بجالائو اورتجھے اورتیرے سب بھائیوں کو جو بنی لاوی ہیں اپنے نزدیک آنے دیا سوکیااب تم کہانت کو بھی چاہتے ہو۔اس لئے تُواور تیرے فریق کے لوگ یہ سب کے سب خداوند کے خلاف اکٹھے ہوئے ہیں اورہارون کو ن ہے جو اس کی تم شکایت کرتے ہو۔پھر موسیٰ نے داتن اور ابیرام کو جوالیاب کے بیٹے تھے بلوابھیجا۔انہوں نے کہا۔ہم نہیں آتے کیایہ چھوٹی بات ہے کہ توہم کو ایک ایسے ملک سے جس میں دودھ اور شہد بہتاہے نکال لایا ہے کہ ہم کو بیابان میں ہلاک کر ے۔اوراس پر بھی یہ طرّہ ہے کہ اب تو سردار بن کر ہم پر حکومت جتاتاہے۔ماسوااس کے تُونے ہم کو اس ملک میں بھی نہیں پہنچایا جہاں دودھ اورشہد بہتاہے۔اورنہ ہم کو کھیتوں اورتاکستانوں کاوارث بنایا۔کیاتُوان لوگوں کی آنکھیں نکال ڈالے گا۔ہم تونہیں آنے کے۔تب موسیٰ نہایت طیش میں آکر خداوندسے کہنے لگا۔تُوان کے ہدیہ کی طرف توجہ مت کر۔میں نے ان سے ایک گدھابھی نہیں لیا۔نہ ان میں سے کسی کو نقصان پہنچایاہے۔پھر موسیٰ نے قورح سے کہا۔کل تُو اپنے سارے فریق کے لوگوں کو لے کر خداوند کے آگے حاضر ہو۔تُو بھی ہو او روہ بھی ہوں۔اورہارون بھی ہو۔تم میں سے ہر شخص اپنے بخور دان کو جوشمار میں اڑھائی سوہوں گے خداوند کے حضور لائو۔اورتُوبھی اپنے بخوردان لانا اورہارون بھی لائے۔سوانہوں نے اپنا اپنا بخور دان لے کر اوران میں آگ رکھ کر اس پر بخور ڈالا۔اورخیمئہ اجتماع کے دروازہ پر موسیٰ او رہارون کے ساتھ آکھڑے ہوئے۔اورقورح نے ساری جماعت کو ان کے خلاف خیمئہ اجتماع کے دروازہ پر جمع کرلیا تھا۔تب خداوند کاجلال ساری جماعت کے سامنے نمایاں ہوا۔اورخداوند نے موسیٰ اورہارون سے کہا۔کہ تم اپنے آپ کو اس جماعت سے بالکل الگ کرلو۔تاکہ میں ان کو ایک پل میں بھسم کردو ں تب وہ منہ کے بل گرکرکہنے لگے۔اے خدا! سب بشر کی روحوں کے خدا! کیاایک آدمی کے گناہ کے سبب سے تیراقہر ساری جماعت پرہوگا۔تب خداوند نے موسیٰ سے کہا۔توجماعت سے کہہ کہ تم قورح اور داتن اور ابیرام کے خیموں کے آس پاس سے دو رہٹ جائو۔اورموسیٰ اٹھ کر داتن او رابیرام کی طرف گیا اوربنی اسرائیل کے بزرگ اس کے پیچھے پیچھے گئے۔