تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 285
الْاَرْضِ۔زمین میں دفن کیاہوامال۔وَقِیْلَ اِسْمٌ لِلْمَالِ اِذَااُحْرِزَفِیْ وِعَاءٍ۔اوریہ بھی کہاگیاہے کہ کَنْزٌ اس مال کانام ہے جسے کسی حفاظت کے سامان میں محفو ظ کرلیاجائے۔اَلذَّھَبُ وَالْفِضَّۃُ۔سونااورچاندی۔مَایُحْرَزُ فِیْہِ الْمَالُ کَالْمَخْزَنِ وَالصَّنْدُوْقِ۔وہ چیزجس میں مال سنبھال کررکھاجائے جیسے خزانہ اورصندوق۔(اقرب) مَفَاتِحَ:مَفَاتِـحَ مِفْتَحٌ وَمِفْتاحٌ کی جمع بھی ہوسکتی ہے اور مَفْتَحٌ کی بھی۔مِفْتَحٌ اور مِفْتَاحٌ کے معنے ہیں چابی۔اور مَفْتَحٌ کے معنے ہیں اَلْخَزَانَۃُ۔خزانہ۔اَلْکَنْز ُ۔محفوظ کیا ہو امال۔اَلْمَخْزَنُ۔خزانہ گاہ(اقرب) تَنُوْاُ:تَنُوْاُ نَاءَ سے مضارع مؤنث کاصیغہ ہے اورنَاءَ الرَّجُلُ کے معنے ہیں نَھَضَ بِجَھْدٍوَّ مَشَقَّۃٍ۔کوئی شخص محنت و مشقت سے اٹھا۔اورنَائَ بِالْحِمْلِ کے معنے ہیں نَھَضَ بِہٖ مُثْقَلًا۔بھاری بوجھ کومشکل سے لےکر اٹھا۔اورجب نَاءَ بِہِ الْحِمْلُ کہیں تو معنے ہوں گے اَثْقَلَہٗ وَاَمَالَہٗ۔اسے بوجھل بنادیا اور جھکادیا۔(اقرب) پس تَنُوْٓاُ کے معنے ہوں گے۔جنہیں مشکل سے اٹھایاجاتاتھا۔العصبة:العصبۃ کے لئے تفسیر کبیر سورۃ النور آیت نمبر ۱۲۔عُصْبَۃٌ جماعت کو کہتے ہیں لیکن بعض کے نزدیک تین سے دس افراد تک کی جماعت کو عُصبہ کہتے ہیں اور بعض صرف دس افراد کی جماعت کو عصبہ کہتے ہیں۔بعض دس سے پندرہ افراد تک کی جماعت کو عصبہ کہتے ہیں۔اور بعض کہتے ہیں کہ دس سے لے کر چالیس تک کی جماعت کو عُصبہ کہا جاتا ہے۔( اقرب و فتح البیان ) تفسیر۔قارون کانام بائیبل میں قورح آتاہے اوراس کا ذکر گنتی باب ۱۶ میں اس طرح کیاگیا ہے کہ ’’ وہ اور بنی اسرائیل میں سے اڑھائی سواَور اشخاص جوجماعت کےسردار اور چید ہ اور مشہور آدمی تھے موسیٰ ؑ کے مقابلہ میں اٹھے اوروہ موسیٰ او رہارون کے خلاف اکٹھے ہوکر ان سے کہنے لگے تمہارے توبڑے دعوے ہوچلے۔کیونکہ جماعت کاایک ایک آدمی مقد س ہے اورخداوند ان کے بیچ رہتاہے۔سوتم اپنے آپ کو خداوند کی جماعت سے بڑاکیونکر ٹھہراتے ہو۔موسیٰ یہ سن کر منہ کے بل گرا۔پھر اس نے قورح اور اس کے کل فریق سے کہاکہ کل صبح خداوند دکھادے گا کہ کون اس کا ہے او رمقدس ہے۔اوروہ اس کو اپنے نزدیک آنے دے گا کیونکہ جسے وہ خود چنے گااسے وہ اپنی قربت بھی دے گا۔سواَے قورح اوراس کے فریق کے لوگو ! تم یوں کرو کہ اپنا اپنا بخوردان لو اوراس میں آگ بھر و۔اورخداوند کے حضور کل ان میں بخو رجلائو۔تب جس شخص کو خداوند چن لے وہی مقدس ٹھہرے گا۔اے لاوی کےبیٹو! بڑے بڑے دعوے تو تمہارے ہیں۔پھر موسیٰ نے قورح کی طرف مخاطب ہوکر کہا اے