تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 25
آگ لگ گئی ہو تواس وقت آگ بجھا نا ضروری ہوگا۔نماز بعد میں اداکرلی جائے گی۔لیکن اس قسم کے استثنائی حالات کے بغیر جوشخص نماز باجماعت کی ادائیگی میں کوتاہی کرتاہے وہ ایک بہت بڑے جرم کا مرتکب ہوتاہے۔دوسری چیز جس کی طرف ان آیا ت میں توجہ دلائی گئی ہے و ہ زکوٰۃ ہے۔زکوٰۃ کی ضرورت اوراس کی اہمیت درحقیقت غربت کے سوال سے پیداہوتی ہے۔اورغربت ایک ایسی چیز ہے جوکبھی بھی بنی نوع انسان سے جدانہیں ہوئی۔عام طور پر لوگ خیال کرلیتے ہیں کہ جب دنیا کی آبادی بڑھ جاتی ہے تو ایک حصہ غریب ہو جاتا ہے۔حالانکہ یہ بات درست نہیں۔آبادی کی کمی کی صورت میں بھی ہمیں غربت ویسی ہی نظرآتی ہے جیسے اس کی کثرت کی صورت میں۔چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ میں باوجود اس کے کہ اس وقت صرف چند ہی افراد تھے قرآن کریم سے معلوم ہوتاہے کہ ان میں سے بھی بعض پر غربت کا زمانہ آیا تھا کیونکہ فرماتا ہے کہ اگر تُواس جنت میں رہے گا توتُو پیاسانہیں رہے گا۔تیرے ساتھی بھوکے نہیں رہیں گے۔اورتیرے ساتھی ننگے نہیں رہیں گے۔اس وسیع دنیا میں جہاں ہردولت اورہرخزانہ خالی پڑاتھا اور کسی کاکوئی مالک نہیں تھا کسی مخصوص قانون میں رہ کر روزی ملنے کاسوال ہی کہاں پیداہوسکتاتھا۔ساری دنیا کاسونا ان کے قبضہ میں تھا ساری دنیا کی چاندی ان کے قبضہ میں تھی۔ساری دنیا کا پیتل ان کے قبضہ میں تھا۔ساری دنیا کالوہا ان کے قبضہ میں تھا۔ساری دنیا کے پھل،پھول اوراعلیٰ درجہ کی زمینیں ان کے قبضہ میں تھیں۔پھر یہ سوال کیونکر پیداہواکہ اگر تُوایک خاص قانون کے ماتحت رہے گا تو بھوک اور ننگ سے بچ جائے گا۔اس سے معلوم ہواکہ باوجودساری دولتوں کے پھر بھی اس بات کا امکان تھا کہ بعض لوگ بھوکے رہیں۔بعض پیاسے رہیں اور بعض ننگے رہیں۔اوریہ صحیح بات ہے۔درحقیقت دنیا میں دولت دو قسم کی ہوتی ہے ایک بالقوۃ اورایک بالفعل۔پھر بالفعل بھی دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک بالفعل دولت ایسی ہوتی ہے جوسکہ کی صورت میں ہویاان چیزوں کی صورت میں جن سے دوسری اشیاء خریدی جاسکتی ہیں۔اورایک بالفعل دولت اجناس کی صورت میں ہوتی ہے جن کو استعمال کیا جاتا ہے۔پھر اجناس کی بھی دو قسمیں ہیں۔ایک وہ جو بغیر کسی اَورتیاری کے انسان کے استعمال میں آجاتی ہیں اورایک وہ جن کی تیاری کے لئے کوشش اورسعی کی ضرورت ہوتی ہے۔جہاں تک بالقوۃ دولت یعنی وجود دولت کاسوال ہے انگریزوں نے اسکانام ویلتھ رکھا ہے اوراس سے مراد کسی ملک کے وہ سامان دولت ہوتے ہیں جو اس میں قدرتی طورپرپائے جاتے ہیں۔مثلاً اگرکسی ملک میں سونے کی کانیں ہیں یاچاندی کی کانیں ہیں تواس کے معنے یہ ہیں کہ اس کے پاس ویلتھ ہے۔مگراس کے یہ معنے نہیں ہوں گے کہ اس کے پاس روپیہ ہے۔اگروہ چاندی اس تک پہنچ نہیں سکی یالوگوں کے پاس زرخیز زمینوں میںگند م اورروئی بونے کے ساما ن نہیں توپھر بھی وہ لوگ