تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 284
کرشن ؑ کو اوررامچندرؑجی کو نمونہ بنا کر بھیج دیا۔کسی زمانہ میں زرتشت کو نمونہ بناکربھیج دیا۔کسی زمانہ میں ایوب ؑ کونمونہ بناکر بھیج دیا۔کسی زمانہ میں دائودؑ اورسلیمان ؑ کو نمونہ بناکر بھیج دیا۔کسی زمانہ میں مسیح ناصری ؑ کو نمونہ بناکربھیج دیا اورجب آخری زمانہ آیاتواس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کومبعوث فرماکر اعلان فرما دیاکہ اب قیامت تک صرف یہی ہمارانمونہ ہے۔اگرتم اپنی زندگیاں محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نمونہ کے مطابق بنائو گے تومیں تمہیں قبول کرلوں گاورنہ نہیں۔اسی امر کی طرف اللہ تعالیٰ نے زیر تفسیر آیت میں اشار ہ فرمایا ہے کہ قیامت کے دن ہم ہر امت کے سامنے ان کے نبی کو جسے نمونہ کے طور پر بھیجاگیاتھا پیش کریں گے اورکہیں گے کہ ہم نے یہ نمونہ تمہاری طرف بھیجاتھا اب تم جو کہتے ہو کہ ہمیں جنت میں داخل کیاجائے توتم پہلے یہ بتائو کہ تم نے اپنے آپ کو کہاں تک اس نمونہ کے مطابق بنایا۔ضَلَّ عَنْھُمْ مَاکَانُوْایَفْتَرُوْنَ میں بتایاکہ وہ لوگ جو دنیا میں بڑے بڑے دعوے کیا کرتے تھے قیامت کے دن ان کے سب دعاوی غائب ہوجائیں گے۔یعنی وہ تمام افتراء جو ذات باری تعالیٰ کے متعلق کیاکرتے تھے اس روز ان کے ذہن سے ایسے نکل جائیں گے کہ انہیں یادہی نہیں رہے گاکہ وہ کیاکچھ کرتے رہے ہیں۔دوسرے یہ کہ ان کے وہ تمام اعمال جن کی افتراء پر بنیاد تھی رائیگاں چلے جائیں گے اوران عبادتوںاور ریاضتوں کا جو وہ اپنے بتوں اوردیوتائوں کی خوشنودی کے لئے کرتے تھے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰى فَبَغٰى عَلَيْهِمْ١۪ وَ قارون(دراصل ) موسیٰ ؑ کی قوم میں سے تھا۔مگروہ انہی کے خلاف ظلم پر آمادہ ہوگیا اورہم نے اس کو اتنے خزانے اٰتَيْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوْٓاُ بِالْعُصْبَةِ دیئے تھے کہ جن کی کنجیاں ایک مضبوط جماعت کے لئے بھی اٹھانامشکل تھیں۔(یاد کر) جب اس کی قوم نے اسے کہا اُولِي الْقُوَّةِ١ۗ اِذْ قَالَ لَهٗ قَوْمُهٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِيْنَ۰۰۷۷ کہ (اتنا )فخرمت کر۔اللہ (تعالیٰ ) فخر کرنے والوںکو یقیناًپسند نہیں کرتا۔حل لغات۔اَلْکُنُوْزُ:اَلْکُنُوْزُکَنْزٌ کی جمع ہے اور اَلْکَنْزُ کے معنے ہیں اَلْمَالُ الْمَدْفُوْنُ فِی