تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 282

شکر گذاری کازیادہ سے زیادہ مادہ اس کے اندر پیداہو۔وَ يَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَآءِيَ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ اورجس دن وہ ان کو پکار ے گا اورکہے گاکہ کہاںہیں وہ میرے مزعومہ شرکاء جس کو تم( معبود)خیال کرتے تَزْعُمُوْنَ۰۰۷۵وَ نَزَعْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيْدًا فَقُلْنَا هَاتُوْا تھے۔اور(اس وقت )ہم ہرایک(مشرک) امت میں سے (ایسے )گواہ کھڑے کریں گے (جن کو یہ لوگ بُرْهَانَكُمْ فَعَلِمُوْۤا اَنَّ الْحَقَّ لِلّٰهِ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا معززسمجھتے تھے)پھر ہم (ان سے)کہیں گے کہ اپنی(وہ )دلیلیں لائو (جن سے تم شرک کو جائز قرار دیتے تھے ) يَفْتَرُوْنَؒ۰۰۷۶ تب وہ جان لیں گے کہ کامل حق اللہ (تعالیٰ)ہی کے پاس ہے۔اوران کاسب افتراء ان سے کھویاجائے گا۔تفسیر۔فرمایا۔تم اس وقت کو بھی یاد کرو جب اللہ تعالیٰ مشرکین سے کہے گاکہ وہ میرے مزعومہ شرکاء کہاں ہیں جن کو تم معبود خیال کرتے تھے؟اس وقت ہم ہرقوم میں سے گواہ کھڑے کریں گے اورپھر ہم ان سے کہیں گے کہ لائو اپنی اپنی دلیلیں پیش کرو۔تب مشرک جان لیں گے کہ حق بات وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے کہی تھی۔اورسب افتراء ان کو بھول جائیں گے۔اس آیت میں نَزَعْنَا اور فَقُلْنَا دونوں جگہ نا کالفظ استعمال ہواہے جو جمع کاصیغہ ہے۔یہ کلام الملوک کہلاتا ہے۔یعنی بادشاہوں کاطریق کلام۔بادشاہ اپنی طاقت کے اظہار کے لئے ہم کالفظ استعمال کیاکرتے ہیں کیونکہ بادشاہوں کے احکام کےجاری کرنے میں اورلوگ بھی شامل ہوتے ہیں۔نَزَعْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيْدًا میں شہید سے مراد ہرقوم کا نبی ہے۔جیسے حضرت مسیح ناصر یؑ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور کہیں گے کہ کُنْتُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًامَّادُمْتُ فِیْھِمْ (مائدہ :۱۱۸)میں جب تک ان میں رہاان کاشہید یعنی نگران رہا۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اِنَّااَرْسَلْنَآ اِلَیْکُمْ رَسُوْلًا شَاھِدًاعَلَیْکُمْ (المزمل :۱۶) یعنی ہم نے تمہاری طرف ایک ایسارسول بھیجا ہے جو تم پر نگران ہے لغت میں بھی شہید