تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 278
بنایاہوتاہے۔دنیا ذہین اورعقلمندلوگوں کی تعریف کرتی ہے مگرذہن اور عقل دونوں کسب سے حاصل نہیں ہوتے بلکہ یہ دونوں چیزیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہیں۔پس حمد کااصل مستحق وہی ہے جس نے وہ سامان پیداکئے۔کم عقل انسان خیال کرتاہے کہ دنیا میں مخلوق کی تعریف ہورہی ہے لیکن حقیقت شناس انسان جانتاہے کہ یہ سب عقل کادھوکا ہے اصل تعریف اللہ تعالیٰ ہی کی ہوتی ہے۔اور وہی اس کامستحق ہے۔پھر فرماتا ہے کہ آخرت میں بھی وہی تعریف کامستحق ہے۔یعنی وہ صرف رحمٰن ہی نہیں بلکہ رحیم بھی ہے اور رحیم کے معنے بار بار رحم کرنے والے کے ہیں۔اوربار بار رحم کا سلسلہ تبھی جاری رہ سکتاہے جبکہ انسان کو ابدی زندگی عطاہو۔اورہرانسان خواہ وہ کتنا ہی گناہگارکیوں نہ ہو آخر خدا تعالیٰ کی رحمت کی آغوش میں آجائے اور اس کے گناہ معاف کردیئے جائیں۔مسیحیت دنیا کے سامنے یہ عقید ہ پیش کرتی ہے کہ دوزخ ابدی ہے مگراللہ تعالیٰ کی صفتِ رحیمیت اس عقید ہ کو ردّکرتی ہے۔کیونکہ بدیاں اگر اپنی جگہ پر کھڑی رہیں اور بار بار خدا تعالیٰ کارحم نازل ہوتارہے اورنیکیاں ترقی کرتی چلی جائیں تویقیناً اس کا یہ نتیجہ نکلے گاکہ ایک د ن ہرجہنمی کی نیکیاں اس کی بدیوں سے زیادہ ہوجائیں گی اورجب نیکیاں بڑھ جائیں گی توایسے شخص کو جہنم میں نہیں رکھاجاسکتا۔وہ یقیناً جنت میں داخل کیاجائے گا۔اوراس طرح آخر میں بھی اللہ تعالیٰ ہی تعریف کامستحق ثابت ہوگا۔جس نے اپنی صفت رحیمیت کے ماتحت دوزخیوں کی نیکیوں کوبھی بڑھایااوران پر اس طرح متواتر اوربار بار رحم نازل کیا کہ آخر وہ بھی خدا تعالیٰ کے فضل کے مستحق ہوگئے اسی کی طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ا س حدیث میں اشارہ کیاگیاہے۔کہ یَأْتِیْ عَلیٰ جَھَنَّمَ زَمَانٌ لَیْسَ فِیْھَااَحَدٌ وَنَسِیْمُ الصَّبَائِ تُحَرِّکُ اَبْوَابَھَا۔یعنی جہنم پرایک زمانہ ایساآئے گاکہ اس میں کوئی شخص بھی نہیںہوگا اورنسیم صبااس کے دروازوں کو کھٹکھٹائے گی۔اسی وجہ سے جنتیوں کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ وَاٰخِرُ دَعْوٰھُمْ اَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (یونس : ۱۱) یعنی وہ آخر میں یہی کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی سب تعریفوں کامستحق ہے جس نے ہماری نیکیوں کو اتنا بڑھایا کہ ایک ایک نیکی کا دس دس گنا بدلہ دیا۔اورجس نے دوزخیوں کی نیکیوں کو بھی اتنا بڑھایاکہ آخر وہ بھی جنت میں آگئے اور خدا تعالیٰ کی رضاانہیں حاصل ہوگئی۔غرض لَهُ الْحَمْدُ فِي الْاُوْلٰى وَ الْاٰخِرَةِ میں یہ بتایاگیا ہے کہ جس طرح ہرکام کے ابتداء میں اللہ تعالیٰ ہی حمد کامستحق ثابت ہوتاہے کیونکہ وہی انسان کے لئے سامان مہیاکرتاہے اوراگراس کی طرف سے سامان مہیا نہ ہوں توکوئی انسان کام نہیں کرسکتا۔اسی طرح آخر میں بھی وہی حمد کامستحق ثابت ہوتاہے کیونکہ نتائج کاظہوربھی اسی کی