تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 276
کردیتاہے اور جس کو چاہتاہے اسے دنیا کی ہدایت کے لئے کھڑاکردیتاہے۔لیکن ان کفار کے مزعومہ شرکاء کو اس تغیر و تبدل پر کچھ اختیار حاصل نہیں۔یہ اس بات کاثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے نقائص اورکمزوریوں سے منزّہ ہے اوروہ ان لوگوں کے مشرکانہ اعتقادات اورخیالات سے بہت بالاہے۔رَبُّکَ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کابھی ردّکردیا ہے جوروح اور مادہ کوازلی سمجھتے ہیں۔اورخدا تعالیٰ کو خالق الاشیاء نہیں بلکہ محض روح اورماد ہ کوجوڑ کر نئی نئی شکلیں قائم کرنے والا قرا دیتے ہیں۔اسی طرح رَبُّکَ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے ان نیچریوں کابھی ردّکردیاہے جن کاخیال ہے کہ خدا تعالیٰ نے انہیں پیداکرکے پھر چھوڑ دیاہے اور اب اس کاان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رہا۔گویاان کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی حیثیت نعوذ باللہ ایک معمار کی سی ہے کہ جس طرح معمارمکان بناکر اس سے الگ ہو جاتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اس جہان کو توپیدا کیا ہے مگر پھراس سے الگ ہوگیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے وَرَبُّکَ یَخْلُقُ مَایَشَآءُ وَیَخْتَارُ کہہ کر ان دونوں قوموں کاردّ کردیا ہے اورفرمایا ہے کہ وہ خالق بھی ہے اور پھر وہ انسان کو پیداکرکے چھوڑ نہیں دیتا بلکہ اس کی ترقیات میں اس کی پوری پوری نگہداشت رکھتااورہرقدم پر اس کی خبرگیری کرتاہے۔چنانچہ جب دنیا ہدایت کی پیاسی ہوتی ہے توربوبیت کی صفت کے ماتحت ہی وہ ان کی طرف اپنارسول مبعوث کرتاہے جو دنیا میں پھر ایک نیاتغیر پیداکردیتاہے۔لیکن یہ مشرک بھی تو بتائیں کہ ان کے مزعومہ شرکاء دنیا میں کیاکررہے ہیں اورکون سے تغیرات ہیں جو ان کی ذات سے وابستہ ہیں۔اوراگروہ کوئی ایک تغیربھی ایساپیش نہیں کرسکتے جوان کے مزعومہ شرکاء کی وجہ سے ظہور میں آیاہو توان کادوسروں کو شریک باری ٹھہرانا کس طرح درست ہو سکتا ہے ؟ پھر فرمایا وَرَبُّکَ یَعْلَمُ مَاتُکِنُّ صُدُوْرُھُمْ وَمَا یُعْلِنُوْنَ۔تیرارب ان کے سینوں کی چھپی ہوئی باتوں کوبھی جانتاہے اور ان تدبیروں کو بھی جانتاہے جنہیں وہ ظاہر کررہے ہیں۔مگروہ یاد رکھیں کہ نہ ان کے منصوبے ان کے کسی کام آسکتے ہیں اورنہ ان کی تدبیریں انہیں کامیابی کامونہہ دکھاسکتی ہیں۔زمین وآسمان کا خدااب فیصلہ کرچکا ہے کہ وہ اپنی توحید کو دنیا میں پھیلائے او رشرک کومٹادے۔پس اب شرک کی تائید میں ظاہری اور مخفی تدابیر انہیں کامیاب نہیں کرسکتیں۔