تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 269
’’ دنیا میںایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کوقبول نہ کیا۔لیکن خدا اسے قبول کرے گا۔اور بڑے زور آورحملوں سے اس کی سچائی ظاہر کردے گا۔‘‘ (براہین احمدیہ جلد چہارم روحانی خزائن جلد اول صفحہ ۵۵۷) چنانچہ اس الہام کے بعد خدا تعالیٰ کے حملے مختلف زلازل اور لڑائیوں اور بیماریوں اور سیلابوں کی شکل میں اس زور سے ہوئے کہ ان کے نتیجہ میں لاکھوں لوگ ہلاک ہوگئے۔اور انہوں نے دنیا میں ہی قیامت کا نظارہ دیکھ لیا۔مگر افسوس کہ اتنی شدید تباہیوں کے بعد بھی بعض لوگوں کے دل ایسے سخت ہوجاتے ہیں کہ وہ بڑی دلیری سے کہہ دیا کرتے ہیں کہ ان زلازل اور طوفانوں اور بیماریوں اور لڑائیوں کا کیا ہے۔یہ مصائب تو ہمیشہ دنیا میں آتے رہے ہیں اور چونکہ پہلے زمانوں میں بھی ایسے لوگ گزرے ہیں جنہوں نے اپنے نبیوں کے مقابلہ میں اس قسم کے خیالات کا اظہار کیا۔اور ان کے نشانات کی تحقیر کی اس لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس اعتراض کا بھی ذکر کردیا ہے۔اور فرمایا ہے کہ :۔وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِيْ قَرْيَةٍ مِّنْ نَّبِيٍّ اِلَّاۤ اَخَذْنَاۤ اَهْلَهَا بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُوْنَ۔ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰى عَفَوْا وَّ قَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَ السَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ(الاعراف :۹۵،۹۶)۔یعنی ہم نے کبھی کوئی رسول کسی بستی کی طرف نہیں بھیجا کہ اس کے بھیجنے کے ساتھ ہی وہاں کے لوگوں کو ہم نے مالی اور بدنی مصائب میں گرفتار نہ کیا ہو۔اور اس سے ہماری غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگ خدا تعالیٰ کے حضور عاجزی کریں۔پھر اس کے بعد ہم ان کی تکلیف کو سہولت سے بدل دیا کرتے ہیں۔یہاں تک کہ جب وہ خوب ترقی کر جاتے ہیں تو یہ کہنا شروع کردیتے ہیں کہ دُکھ اور سُکھ دونوں ہمارے باپ دادا کو بھی پہنچا کرتے تھے۔پھر ان دکھوں میں نبیوں کی صداقت کا کیا ثبوت ہے ؟ پس ہم ان کو اچانک پکڑ لیتے ہیں اور وہ نہیں سمجھتے کہ ایسا کیوں ہو ا۔(اعراف ع۲ آیت ۹۵,۹۶) پس یہ ایک خطرناک خیال ہے جو حق سے دور ہونے والے لوگوں کے دلوں میں پایا جاتا ہے۔حق یہی ہے کہ عالمگیر عذاب اسی وقت اور اسی زمانہ میں آتے ہیں جب پہلے کوئی رسول مبعوث ہوچکا ہو۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا (اسراء:۱۶)یعنی ہم کبھی عذاب نہیں بھیجاکرتے جب تک کہ اس سے پہلے رسول نہ بھیج لیا کریں۔پس یہ عذاب اس قابل نہیں کہ ان کو معمولی سمجھاجائے بلکہ یہ اس بات کی علامت ہیں کہ اس وقت خدا تعالیٰ کاکوئی رسول مبعوث ہوچکاہے۔