تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 267
کامفہوم یہ لیا ہے کہ اس نے اس چیز کوحق نہ سمجھا جس کی بناپر اس کے قبول کرنے میں تکبرکیا اوربَطِرَ فُلَانٌ النِّعْمَۃَ کے معنے ہیں اِسْتَخَفَّھَا فَکَفَرَھَا۔نعمت کو خفیف سمجھا اور اس کی بناء پر اس کی ناقدری کی۔اوراَبْطَرَہُ الْمَالُ کے معنے ہیں جَعَلَہٗ بَطِرًا۔مال نے اس کو متکبر بنادیا۔(اقرب) پس بَطِرَتْ مَعِیْشَتَھَا کے معنے ہیں۔بستیاں اپنی معیشت کے افراط کی وجہ سے متکبرہوگئیں۔تفسیر۔فرمایا۔انہیں اپنی اس عزت کی وجہ سے جوابراہیمی دعائوں کی وجہ سے حاصل ہے مغرور نہیں ہوناچاہیے۔دنیا میں بہت سی بستیا ں ایسی ہیں جواپنی معیشت کے سامانوں کے افراط کی وجہ سے تکبر میں مبتلاہوگئی تھیں۔مگر پھر دیکھ لو تمہارے سامنے ان کے گھر موجود ہیں جو اُجڑ گئے۔اوران کے بعد ان میں کوئی نہ رہا۔اورہم ہی ان ملکوں کے وارث ہوگئے یعنی ان کی اولادیں تک باقی نہ رہیں اور ان کے آباد مکانات ویران اورسنسان جنگلات کی طرح بن گئے۔پھر مکہ والے کیوں نصیحت حاصل نہیں کرتے۔اورمحض خدا تعالیٰ کے دیئے ہوئے رزق پر کیوں اترارہے ہیں۔اورکیوں سچائی کو قبول نہیںکرتے جواصل چیز ہے۔وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى حَتّٰى يَبْعَثَ فِيْۤ اُمِّهَا اورتیر ارب جب تک (کسی بستیوںکے مجموعہ کی ) مرکزی بستی میں ایسارسول نہ بھیج دے جو ان کے سامنے ہماری آیتیں رَسُوْلًا يَّتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِنَا١ۚ وَ مَا كُنَّا مُهْلِكِي الْقُرٰۤى اِلَّا وَ پڑھ کر نہ سنائے ان بستیوں کے مجموعہ(یعنی ملک)کوہلاک کرنے کاارتکاب نہیں کرسکتاتھا(کیونکہ یہ انصاف کے اَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ۰۰۶۰ خلاف ہے )اورہم کسی بستیوں کے مجموعہ (یعنی ملک)کوکبھی ہلاک نہیں کرتے سوائے اس کے کہ ان کے رہنے والے ظالم ہوجائیں۔تفسیر۔ا س آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ اصول بیان فرمایا ہے کہ جب تک کسی ملک کے مرکز ی مقام پر یعنی اس مقام پر جوخدا تعالیٰ کی نگاہ میں دین کامرکز ہونے کے لائق ہو اللہ تعالیٰ کسی رسول کو نہ بھیج لے جو اس ملک کے لوگوں کوخدا تعالیٰ کے احکام سے آگاہ کرے اس وقت تک خدا تعالیٰ اس ملک پر عذاب نازل نہیں کیا کرتا۔