تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 258

بعد نماز کا ذکرکرے بلکہ وہ وضو سے روحانیت طہارت او رخدا تعالیٰ کے قرب کی طرف انسان کو متوجہ کرے گی۔کیونکہ وضو سے طہارت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔پھر جب نماز کامسئلہ آئے گاتویہ نہیں ہوگاکہ اللہ تعالیٰ نماز کے مسائل بیان کرناشروع کردے بلکہ سجدہ اور رکوع کے ذکر سے جوجذبات انسانی قلب میں پیدا ہوتے ہیں ان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ اسے اپنی طرف متوجہ کرے گا۔تاکہ جو جذبات بھی انسان کے اند ر پیداہوں ان سے وہ ایسااثر لے جواسے خدا تعالیٰ کے قریب کردے۔غرض ترتیب قرآن ظاہر پر مبنی نہیں بلکہ قلب کے جذبات کی لہروں پر مبنی ہے۔اوریہ لہریں مختلف ہوتی ہیں۔مَیں اس کی وضاحت کے لئے ایک مثال دےدیتاہوں۔کہتے ہیں کسی مسجد کامُلّا ایک د ن جماعت کرانے لگا۔تواس نے دیکھا کہ مقتدی آسودہ حال ہیں۔اس پر نماز میں ہی اسے خیال آیا کہ اگریہ مجھے تحفے تحائف دیں تومیرے پاس بہت سامال اکٹھاہوجائے گا۔پھر جب مال جمع ہوجائے گا تومیں اس سے تجارتی سامان خریدوں گا۔خوب تجارت کروں گا۔کبھی دلّی میں اپنی اشیاء لے جائوں گا کبھی کلکتے چیزیں لے جائوں گا۔غرض وہ اس طرح خیالات دوڑاتاچلاگیا۔پھرہندوستان اور بخاراکے درمیان اس نے تجارت کی سکیم بنانی شروع کردی۔اب بظاہر وہ رکو ع اورسجود کررہاتھا مگرخیالات کہیں کے کہیں جاپہنچے۔ایک بزرگ بھی ان مقتدیوں میں شامل تھے۔ان پر کشفی حالت طاری ہوئی اورانہیں امام کے تمام خیالات بتادیئے گئے۔اس پروہ نماز توڑ کرالگ ہوگئے۔جب اس ملّا نے نماز ختم کی تو وہ ان پرناراض ہوا اورکہنے لگا تمہیں معلوم نہیں کہ نماز پڑھتے ہوئے اسے بلاوجہ توڑا نہیں کرتے۔وہ کہنے لگے۔مسئلہ تومجھے معلوم ہے مگرمیری صحت کچھ کمزور ہے۔میں آپ کے ساتھ چلااوردلّی تک گیا۔پھر دلی سے بخاراگیااورمیں تھک کررہ گیا اور چونکہ اتنے لمبے سفر کی میں برداشت نہیں کرسکتاتھا اس لئے آپ سے الگ ہوگیا۔اس پر وہ شرمندہ ہوکر خاموش ہوگیا۔اب یہ بیہودہ خیالات تھے جو اس کے دل میں پیداہوئے مگران خیالات میں بھی وہی ترتیب رہی جواس کے جذباتِ قلب کی تھی۔یہی حال نیک خیالات کاہے اوروہ بھی اسی رنگ میںپیدا ہوتے ہیں۔مثلاً تم سجدہ میں گئے اور تم نے سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعلیٰ کہا۔تواگراس وقت تمہارادل بھی حاضر ہے تواللہ تعالیٰ کی سبّوحیت کانقشہ تمہارے سامنے آنے لگتاہے گواس وقت تمہارے مونہہ سے دوسری اورتیسری دفعہ بھی سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعلیٰ نکل رہاہوتاہے مگرتمہارادل پہلے سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعلیٰ کو ہی چھوڑنے کونہیں چاہتا یا اَلحمد للّٰہِ کہتے ہو اور تمہاراد ل اس وقت حاضر ہوتاہے۔تواس وقت حمد کے ماتحت اللہ تعالیٰ کے احسانات تمہارے سامنے یکے بعد دیگرے آنے شروع ہوجاتے ہیں اور تم انہی احسانات کی یاد میں محوہوجاتے ہو۔اب اگرایسی حالت میں تم