تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 256
متعلق تحقیق کرتے ہیں تووہ سب کی سب ا س بات کی متفقہ طور پرقائل نظر آتی ہیں کہ ان میں اللہ تعالیٰ کاکوئی نہ کوئی مصلح ضرور آیاتھا۔جب ہم ہندوئوں سے پوچھتے ہیں تووہ کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں حضرت کرشن اور رامچندر جی خدا تعالیٰ کاپیغام لے کرآئے تھے۔ہم عیسائیوں سے پوچھتے ہیں تو وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کانام بتاتے ہیں۔ہم یہودیوںسے پوچھتے ہیںتو وہ حضرت موسیٰ ؑ اورہارونؑ کانام بتاتے ہیں۔ہم ایرانیوں سے پوچھتے ہیںتووہ حضرت زرتشت علیہ السلام کانام بتاتے ہیں۔ہم چینیوں سے پوچھتے ہیں تووہ حضرت کنفیوشس کانام لیتے ہیں۔ہم یونانیوں سے پوچھتے ہیں تو وہ سقراط کانام لیتے ہیں۔غرض کوئی قوم ایسی نہیں جس کی ہدایت کا اللہ تعالیٰ نے سامان نہ کیا ہو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ جیسے عرب کا خداہے ویساہی وہ ہندوستان اورچین اور شام اور مصر اورایران اور یونان کابھی خداہے۔جب اس نے تمام دنیا کی جسمانی ضرورتوںکو پوراکیا ہے تووہ ان کی روحانی ضرورتوںکو کس طرح نظر انداز کرسکتاتھا جبکہ روح کی حفاظت جسم کی حفاظت سے بھی زیادہ ضروری تھی اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے اسی احسان کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ہم نے ہمیشہ اپنی مخلوق پر رحم فرمایا اور اس کی ہدایت کاخیال رکھا اوراس کی طرف پے درپے اپنے رسول بھیجے۔پے درپے ان کے لئے وحی نازل کی تاکہ کوئی شخص نادانستہ طورپرہلاک نہ ہو۔دوسرے معنے اس آیت کے یہ ہیں کہ ہم نے اس قول یعنی قرآن کریم کو ایسابنایاہے کہ اس کی ہرآیت دوسری آیت کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔اوراس کے تمام مضامین میں نہایت اعلیٰ درجہ کی ترتیب پائی جاتی ہے مگرافسوس کہ مسلمانوں نے ترتیب قرآن کے مسئلہ کوہی نظر انداز کردیااوریہ کہنا شروع کردیا کہ نعوذ باللہ یہ ایک بے جوڑ کلام ہے جس کاآپس میں کوئی تعلق نہیں۔گویاان کے نزدیک مسلمانوں کویہ توایمان رکھناچاہیے کہ یہ خدا کاکلام ہے۔لیکن ساتھ ہی یہ بھی سمجھناچاہیے کہ انسانی کلام میں جویہ خوبی ہوتی ہے کہ اس میں ربط پایا جاتا ہے وہ اس میں نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ پہلے مفسرین میں سے ابن حیّانؒ کے سواکسی نے ترتیب کے مسئلہ کی طرف توجہ نہیں کی حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں قرآن کریم کی فضیلت میں یہ بیان فرمایا ہے کہ اس میں ایک اعلیٰ درجہ کی ترتیب پائی جاتی ہے۔تاکہ لوگ اس پرغورکرکے نصیحت حاصل کریں۔لیکن یہ امر بھی یاد رکھناچاہیے کہ الہامی کتابوںکی ترتیب عام کتابوں کی ترتیب سے جداگانہ رنگ رکھتی ہے۔عام کتابوں میں تویہ ہوتاہے کہ مثلاً پہلے مسائل وضو بیان کئے جائیںگے۔پھرمسائل عبادت بیان کئے جائیں گے پھرایک باب میں مسائل نکاح بیان کئے جائیں گے اسی طرح کسی باب میں طلاق و خلع کااور کسی باب میں کسی اورچیز کا ذکرہوگا۔مگرالہامی کتابوں میں یہ رنگ نہیں ہوتا۔بلکہ ان کی ترتیب بالکل اَور قسم کی ہوتی ہے۔جودنیا کی ترتیب سے بالکل نرالی ہوتی ہے۔یہاں تک کہ جاہل لوگ کہہ دیتے