تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 248
لوگ نصیحت حاصل کریں۔مکہ والے حضر ت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے توتھے مگر چونکہ ایک لمباعرصہ گذر چکاتھا وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعلیم سے ناآشناہوچکے تھے اورشرک اختیار کرچکے تھے۔اس آیت میں طور سیناپر نازل ہونے والی جس عظیم الشان پیشگوئی کی طرف اشارہ کیاگیا ہے و ہ استثناء باب ۱۸ میں پائی جاتی ہے اوراس کے الفاظ یہ ہیں کہ ’’ میں ان کے لئے ان ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپاکروں گا اوراپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اورجو کچھ میں اسے حکم دوں گاوہی وہ ان سے کہے گا۔اورجو کوئی میری ان باتوںکوجن کو وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے تومیں ان کاحساب اس سے لوںگا۔لیکن جونبی گستاخ بن کر کوئی ایسی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کامیں نے اس کو حکم نہیں دیایا اورمعبودوں کے نام سے کچھ کہے تووہ نبی قتل کیاجائے۔‘‘ (استثناء باب ۱۸ آیت ۱۸تا۲۱) بائیبل تسلیم کرتی ہے کہ یہ خبر موسیٰ علیہ السلام کو خروجِ مصر کے بعد طورپر دی گئی تھی۔پس یہی وہ عظیم الشان پیشگوئی ہے جس کی طر ف اس آیت میں اشارہ کیاگیا ہے۔اوراللہ تعالیٰ نے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاانکار کرنے والوں کوتوجہ دلائی ہے کہ کیایہ اس وقت طو رکے پاس موجود تھا جب موسیٰ ؑ نے اس کے آنے کی پیشگوئی کی تھی۔یاکیا اس پیشگوئی میں موسیٰ ؑ اور محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے باہمی سمجھوتے کادخل ہے۔اگر یہ پیشگوئی زمین و آسمان کے خدا کی طرف سے تھی جودوہزار سال کے بعد ٹھیک اسی طرح تمہاری آنکھوں کے سامنے پوری ہوئی تو تمہارا فرض تھا کہ تم دوڑتے ہوئے آتے اور اس موعود کے آگے اپنے سر جھکادیتے تاکہ تم بھی ان رحمتوںاور برکتوں سے حصہ پاتے جو اس پر ایمان لانے کے ساتھ وابستہ ہیں۔مگرتم نے موسیٰ ؑ کی اس عظیم الشان پیشگوئی کی بھی پرواہ نہ کی اورجب وہ موعو د آگیاجس کادوہزار برس سے انتظار کیاجارہاتھا توتم سب سے پہلے اس کے منکر ہوگئے اوراس کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے۔یہ پیشگوئی جواستثناء با ب ۱۸ میں کی گئی ہے اپنی تفاصیل کے لحاظ سے اس قدراہم ہے کہ اس پر جتنا بھی غور کیاجائے اتناہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کانقشہ انسان کی آنکھوں کے سامنے پھرنے لگتاہے۔اس پیشگوئی میں سب سے پہلی بات تویہ بتائی گئی تھی کہ یہ آنے والاموعود بنی اسرائیل میں سے نہیں بلکہ ان کے بھائیوں یعنی بنی اسماعیل میں سے آئے گا۔دوسری بات یہ بتائی گئی تھی کہ وہ موسیٰ ؑ کی طرح صاحب ِ شریعت رسول ہوگا۔اوراس کے واقعات زندگی موسیٰ ؑ کے واقعات زندگی کےساتھ ملتے جلتے ہوں گے۔اس میں کہا گیا ہے کہ