تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 244
قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ۰۰۴۷ تجھ سے پہلے کوئی ہوشیار کرنے والانہیں آیاتھا۔تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔حل لغات۔ثَاوِیًا۔ثَاوِیًاثَوَی سے اسم فاعل کاصیغہ ہے۔اور اَلثَّوَاءُ کے معنے ہیں اَلْاِقَامَۃُ مَعَ الْاِسْتِقْرَارِ۔یعنی مستقل رہائش (مفردات )اورجب ثَوَی بِالْمَکَانِ کافقرہ استعمال کریں تومعنے ہوں گے اَقَامَ یعنی وہ کسی جگہ ٹھہرا۔(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے قرونِ اولیٰ کی ہلاکت اور بربادی کے بعد جبکہ دنیا ایک نئی شریعت کی محتاج تھی اوروہ ہرقسم کی خیر اوربرکت کے سامانوں سے محروم ہوچکی تھی ہم نے موسیٰ ؑ پر ایک آسمانی کتاب نازل کی جو لوگوںکو روحانی بینائی بخشنے والی تھی اوران کے لئے ہدایت او ررحمت کاموجب تھی۔یہ کتاب انہیں اس لئے دی گئی تھی تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور اس کی روشنی میں اپنے اندر ایک نیک اور پاک تبدیلی پیداکرنے کی کوشش کریں۔ا س آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ تورات کے نزو ل کی صرف یہی غرض نہیں تھی کہ اس زمانہ کے لوگ اس کی تعلیم سے فائدہ اٹھائیں اورانہیں وہ روحانی بصیرت حاصل ہو جائے جس سے وہ خیر اور شر میں تمیز کرسکیں اوراپنے مخالفین پر انہیں غلبہ میسر آجائے۔بلکہ وہ اپنے اندر ہدایت اور رحمت کاایک پیغام بھی رکھتی تھی۔یعنی اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے متعلق بھی پیشگوئیاں پائی جاتی تھیں تاکہ جب وہ موعود آئے توتورات کے ماننے والے اسے قبول کرنے سے محروم نہ رہیں۔چنانچہ اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ انہی پیشگوئیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ اِذْ قَضَيْنَاۤ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ وَ مَا كُنْتَ مِنَ الشّٰهِدِيْنَ۔یعنی اے محمدرسول اللہ !(صلی اللہ علیہ وسلم)تُوا س وقت موسیٰ ؑ کے ساتھ نہیں تھا جبکہ ہم نے مغربی جانب کلام الٰہی کولوگوں تک پہنچانے کاکام اس کے سپرد کیاتھا۔اورنہ تُواس وقت اس واقعہ کے چشم دید گواہوں میں سے تھا۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ نشان دہی فرمائی کہ وہ مقام جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پہلی دفعہ تجلّی الٰہی کو ایک آگ کی صورت میں دیکھاتھاوہ جانبِ غرب تھا۔یہ جانبِ غرب اگر عرب سے سمجھاجائے تواس کے معنے یہ ہوں گے کہ تُواس وقت عرب کے مغربی جانب نہیں تھا جبکہ موسیٰ ؑ کے سپرد ہم نے رسالت کاکام کیا۔اوراگراس سے دشتِ سینا مراد لیاجائے جس میں یہودیوں کے نزدیک حورب پہاڑ تھاجیساکہ خروج باب ۱۹ آیت ۱تا۳ سے ظاہر ہے تواس کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ مقام جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پہلی مرتبہ الٰہی تجلّی دیکھی وہ دشتِ سینا کے مغرب میں تھا۔تورات