تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 237
سمجھنے لگا ہے اورہمیں وہ رستہ بتاتاہے جس کو ہمارے اسلاف نے کبھی اختیار نہیں کیا۔اگر موسیٰ ؑ کابتلایاہواراستہ ہی سچا راستہ ہے۔تواس کے معنے یہ ہیں کہ ہمارے باپ داد ا سب بیوقو ف اورجاہل تھے اورانہیں وہ روشنی دکھائی نہ دی جو موسیٰ ؑ کو نظر آگئی۔اس طرح اس نے موسیٰ ؑکے خلاف وہی حر بہ استعمال کیا جو ہمیشہ سے حق کے مخالف لوگوں کواشتعال دلانے کے لئے استعمال کرتے چلے آئے ہیں۔حضر ت موسیٰ علیہ السلام نے اس کاکیا ہی لطیف جواب دیا ہے۔فرمایا۔رَبِّيْۤ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى مِنْ عِنْدِهٖ وَ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ۔میرارب اس شخص کوجواس کی طرف سے ہدایت لایا ہے خوب جانتا ہے۔اوراسے بھی خوب جانتاہے جس کاانجام اچھا ہوگا۔یقیناً ظالم لوگ کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔یعنی تم نے مجھے مفتری توقرار دے دیا ہے لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ کیا میں اپنے دعویٰ کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کررہاہوں یانہیں؟ جب میں باربار اپنا دعویٰ خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتاہوں تومفتری ہونے کی صورت میں کیا خدا تعالیٰ مجھے سزادینے کے لئے کافی نہیں؟جب دنیوی گورنمنٹیں بھی یہ برداشت نہیں کرسکتیں کہ ان کی طرف سے کوئی جعلی افسر بن کر لوگوںکو دھوکا دے اوروہ ایسے شخص کو فوراً پکڑ کر جیل خانہ میں ڈال دیتی ہیں۔تویہ کس طرح سمجھاجاسکتاہے کہ اگر میں نے افتراء کیاہے تو خدا کو اس کاعلم نہیں اور وہ مجھے سزانہیں دے گا۔خدا تعالیٰ اس شخص کو جو اس کی طرف سے ہدایت کاپیغام لے کرآیاہے خوب جانتاہے اور اُسے بھی خوب جانتاہے جس کے لئے آخر میں فتح اور کامیابی مقدر ہے۔اس لئے بجائے اس کے کہ تم مجھے جھوٹااور مفتری کہو تم اس معاملہ کو خدا تعالیٰ کے فیصلہ پر چھو ڑدو۔اگر میں مفتری ہواتو خدا تعالیٰ کاہاتھ میری رگِ جان کو کاٹ کررکھ دے گا۔اور میرا انجام وہی ہوگا۔جوہمیشہ سے افتراء کرنے والوں کاہوتاچلاآیاہے۔لیکن اگرمیں اس کے حکم سے تمہاری طرف آیاہوں اور اس نے مجھے اپنی کامیابی کی بشارات دی ہیں توتم خود سوچ لو کہ تم نے مجھے مفتری قرار دے کر کتنے بڑے جرم کا ارتکار ب کیا ہے۔یہ ویساہی فقر ہ ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک مقام پر اپنے مخالفین کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ۔’’ دنیا مجھ کو نہیں پہچانتی لیکن وہ مجھے جانتاہے جس نے مجھے بھیجا ہے۔یہ ان لوگوں کی غلطی ہے اورسراسر بدقسمتی ہے کہ میری تباہی چاہتے ہیں۔میں وہ درخت ہوں جس کومالک حقیقی نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے۔جو شخص مجھے کاٹناچاہتاہے اس کانتیجہ بجز اس کے کچھ نہیں کہ وہ قارون اوریہودہ اسکریوطی اورابوجہل کے نصیب سے کچھ حصہ لیناچاہتاہے۔‘‘ (اربعین نمبر ۳روحانی خزائن جلد ۱۸ص۵۱)