تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 20

معلوم نہیں کہ اس کے اندرکون ہے۔توہمیں اندر کاحال کس طرح معلوم ہو سکتا ہے اگر ہم محض اپنے قیاس سے ا س کے متعلق کوئی فیصلہ کریں گے تووہ ویسی ہی بات ہوگی جیسے مشہور ہے کہ کسی شہر میں چار اندھے رہاکرتے تھے۔اتفاقاً ایک دن اس شہر میں ہاتھی آگیا۔اورسینکڑوں آدمی اس کے دیکھنے کے لئے اکٹھے ہوگئے۔ان اندھوں نے شہر والوں سے کہا کہ ہمیں بھی وہاں لے چلو ساراشہر دیکھ آیا ہے۔اگرہم نہ گئے تولوگ کیا کہیں گے۔چنانچہ کوئی شخص انہیں سہاراد ے کر وہاں لے گیا۔اب و ہ دیکھ تونہیںسکتے تھے انہوں نے کہا چلو ہم ٹٹول کر ہی معلوم کرلیتے ہیں کہ ہاتھی کیساہوتاہے۔چنانچہ ایک نے ہاتھ ماراتووہ اس کی دم پر پڑا۔دوسرے نے ہاتھ ماراتوکان پر پڑا۔تیسرے نے ہاتھ ماراتوسونڈ پر پڑا۔چوتھے نے ہاتھ ماراتو پیٹ پر پڑا۔اس کے بعد وہ واپس آگئے۔اورپھر انہوں نے بیٹھ کر آپس میں ہاتھی کے متعلق باتیں شروع کردیں۔ایک نے کہا ہاتھی بس ایک لمبی سی چیز ہوتی ہے۔جس کے آگے تھوڑے سے بال ہوتے ہیں۔دوسرے نے کہا کہ تم بالکل جھوٹ بولتے ہو۔ہاتھی توایساہوتاہے جیسے چھا ج ہوتاہے۔تیسرے نے کہا تم نے ہاتھی دیکھا ہی نہیں وہ تو ڈھول کی طرح ہوتاہے۔چوتھے نے کہا کہ سب غلط کہتے ہو۔وہ تو ایک موٹی سی لچکدار چیز ہوتی ہے اور کچھ بھی نہیں ہوتا (اس کاہاتھ سونڈ پر پڑاتھا )یہ اختلاف اسی لئے ہوا کہ انہوں نے بے دیکھے محض قیاس سے ایک چیز کا اندازہ لگایا تھا۔اسی طرح جو چیز درون پردہ ہو اس کا پتہ باہرسے نہیں لگ سکتا اوراگر کوئی پتہ لگانے کی کو شش کرے گاتو وہ اندھوں کی طرح غلط نتیجہ پر ہی پہنچے گا۔یہی حال خدا تعالیٰ کی معرفت اوراس کی دینی تعلیموں کا ہے۔یہ علم صر ف خدا تعالیٰ کی کتاب سے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔اورجوشخص اسے باہرسے سیکھنے یا سمجھنے کی کوشش کرتاہے وہ ان اندھوں کی طرح ہوتاہے جن میں سے کسی نے سونڈ پر ہاتھ مار کر سمجھ لیا تھا کہ میں نے ہاتھی دیکھ لیا ہے۔کسی نے دُ م پر ہاتھ مارکر سمجھ لیا تھا کہ میں نے ہاتھی دیکھ لیاہے۔کسی نے پیٹ پر ہاتھ مار کر سمجھ لیا تھا کہ میں نے ہاتھی دیکھ لیاہے اور کسی نے کان پر ہاتھ مارکر سمجھ لیا تھا کہ میں نے ہاتھی دیکھ لیا ہے۔اس زمانہ میں بعض بیوقو ف سائینسدان کہتے ہیں کہ ہم عقل سے خدا کو معلوم کرسکتے ہیں۔جیسے بعض بے وقوف علما ء یہ کہتے ہیں کہ مذہب کا عقل سے کیا تعلق ہے۔یہ دونوں بیوقو ف ہیں۔خدا کو ہم عقل سے نہیں دریافت کرسکتے اورمذہب کو بغیر عقل کے ہم سمجھ نہیں سکتے۔جس طرح دنیا کی تمام معقول باتوںکے سمجھنے کے لئے عقل کی ضرورت ہے اسی طرح مذہب کے سمجھنے کے لئے بھی عقل استعمال کی جاتی ہے۔جیسے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ قُلْ ھٰذِہٖ سَبِیْلِیْ اَدْعُوْٓا اِلَی اللّٰہِ عَلیٰ بَصِیْرَۃٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ (یوسف : ۱۰۹) یعنی اے محمدؐ رسول اللہ! تولوگوں سے یہ کہہ دے کہ میراطریق یہ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتاہوں۔اورمیں اور میرے متبع سب بصیرت پر قائم ہیں۔