تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 235

ملاقات کو آبھی رہاہے۔اورتجھے دیکھ کردل میں خو ش ہوگا۔سوتو اسے سب کچھ بتانا اوریہ سب باتیں اسے سکھانا اورمیں تیری اور اس کی زبان کا ذمہ لیتاہوں اور تم کوسکھاتارہوں گا کہ تم کیاکیاکرو۔اوروہ تیری طرف سے لوگوں سے باتیں کرے گا۔اوروہ تیرامنہ بنے گا۔اورتو اس کے لئے گویا خدا ہوگا۔‘‘ (خروج باب ۴ آیت ۱۴تا۱۶) یہ عبارت بتاتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے اظہارِ ناراضگی کے طور پر موسیٰ ؑ کے ساتھ ہارون ؑ کوبھی مبعوث کردیا۔لیکن قرآن کریم بتاتاہے کہ یہ بات غلط ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خود یہ درخواست کی تھی کہ ہارونؑ کو میری تائید کے لئے میرے ساتھ کھڑاکیاجائے۔چنانچہ قرآن کریم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے یہ الفاظ بیان فرماتا ہے کہ وَ اَخِيْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّيْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْاً يُّصَدِّقُنِيْۤ١ٞ اِنِّيْۤ اَخَافُ اَنْ يُّكَذِّبُوْنِ۔یعنی اے خدا!ہارون بات کرنے کے لحاظ سے مجھ سے زیادہ فصیح ہے۔پس تُواس کو میرے ساتھ مدد گار کے طور پر بھیج دے تاکہ وہ میری تصدیق کرے۔میں ڈرتاہوں کہ وہ میری تکذیب نہ کریں۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے ان کی اس دعاکوقبول فرماتے ہوئے حضرت ہارون ؑ کوبھی ان کی معیت میں نبی بنادیا۔پس قرآن کریم حضرت ہارونؑ کی بعثت کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا کانتیجہ قرار دیتاہے۔اوراسے اپنا انعام او راحسان قرار دیتاہے۔لیکن بائیبل کہتی ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام پر خدا کاقہر بھڑکاتواس نے ہارون ؑ کوبھی ساتھ لے جانے کاحکم دےدیا۔پنجم۔بائیبل کہتی ہے کہ حضرت ہارونؑ صرف خاندانِ بنی لاوی کاایک فردہونے کی وجہ سے حضرت موسیٰ ؑ کے بھائی تھے حقیقی یامادری بھائی نہیں تھے۔لیکن قرآن کریم حضر ت ہارون کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کاسگابھائی یاکم از کم ماں کی طرف سے بھائی قرار دیتاہے۔جیساکہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا ہے۔’’قَالَ يَبْنَؤُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْيَتِيْ وَ لَا بِرَاْسِيْ‘‘(طٰہٰ :۹۵) یعنی حضرت ہارونؑ نے کہا۔اے میری ماں کے بیٹے ! میری ڈاڑھی اور سرکے بالوں کو نہ پکڑ۔غرض قرآن کریم نے جواس سورۃ کے شروع میں ہی فرما دیاتھا کہ نَتْلُوْا عَلَيْكَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰى وَ فِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ۔اس کی صداقت بائیبل اور قرآن کے بیان کردہ واقعات کے اختلاف سے بالکل ظاہر ہوجاتی ہے۔