تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 229
’’ موسیٰ اس شخص کے ساتھ رہنے کو راضی ہوگیا۔‘‘ (خروج باب ۲ آیت ۲۱) حالانکہ بتانایہ چاہیے تھاکہ موسیٰ ؑ کاخسر انہیں رکھنے پر راضی ہوگیا۔ورنہ موسیٰ ؑ توچاہتے ہی تھے کہ انہیں کوئی ٹھکانہ مل جائے جہاں وہ رہائش اختیار کرسکیں۔لیکن قرآن کریم بتاتاہے کہ موسیٰ ؑ اوران کے خسر کے درمیان ایک معاہدہ ہواتھا۔اور حضرت موسیٰ علیہ السلام آٹھ یادس سال تک اس کی خدمت کرنے کو تیار ہوگئے تھے۔چنانچہ بائیبل نے اس معاہدہ کاکوئی ذکرنہیں کیا۔مگراتنا اسے بھی تسلیم کرناپڑاہے کہ ’’موسیٰ اپنے خسر یتروکی جو مدیان کا کاہن تھا بھیڑ بکریاں چراتاتھا۔‘‘ (خروج باب ۳ آیت ۱) یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ قرآن کریم نے جس معاہدہ کا ذکر کیاہے اسی کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام یہ کام کیاکرتے تھے۔غرض قرآن کریم کو یہ عظیم الشان فضیلت حاصل ہے کہ اس نے دوہزار سال کے بعد نازل ہوکر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے صحیح واقعات دنیا کے سامنے پیش کئے جب کہ تورات نے موسیٰ ؑ کی کتاب کہلا کر کئی واقعات کو چھو ڑ دیااور کئی واقعات کو غلط بیان کردیا۔اسی وجہ سے قرآن کریم نے اس سور ۃ کے شروع میں ہی یہ بیان فرما دیاتھا کہ تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ یہ آیات ایک ایسی کتاب کی آیات ہیں جوتمام ضروری باتوں کو کھو ل کربیان کرنے والی ہے۔یعنی بے شک تورات بھی کتاب ہے مگر انسانی دست بُرد کا شکار ہونے کی وجہ سے اب اس سے استفادہ ناممکن ہے کتاب مبین جو تمام سربستہ رازوں سے پر دہ اٹھانے والی اور تما م احکام کو دلائل کے ساتھ پیش کرنے والی ہے وہ صر ف قرآن کریم ہی ہے۔اوراسی کی اقتداء نوعِ انسانی کو نجات دلاسکتی ہے۔فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ وَ سَارَ بِاَهْلِهٖۤ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ جب موسیٰ ؑ نے وقت مقرر ہ کو پو راکرلیا اوراپنے گھروالوں کو لے کے چلا تواس نے طور کی طرف سے ایک آگ الطُّوْرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّيْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّيْۤ دیکھی۔(اور)اپنے گھروالوں سے کہا تم یہاں ٹھہرو۔میں نے ایک آگ دیکھی ہے شاید میں وہاں سے تمہارے اٰتِيْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ لئے کوئی( ضروری)خبر لائوں۔یاکوئی آگ کاانگارہ لائوں تاکہ تم سینکو۔پھر جب وہ اس (آگ ) کے پا س