تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 226

کھڑا۔اورجب تسلی ہوگئی توآگے بڑھ کر اس مصری کو مار دیا۔اوراسے ریت میں چھپادیا۔گویابائیبل موسیٰ ؑ پر قتل عمد کاالزام لگاتی ہے اورکہتی ہے کہ موسیٰ ؑ کاارادہ ہی اسے مارڈالنے کاتھا۔چنانچہ اس نے احتیاط ملحوظ رکھتے ہوئے پہلے ادھر ادھر دیکھا تاکہ گرفت نہ ہوسکے اورپھر اسے قتل کرکے ریت میں چھپا دیا۔مگرقرآن بتاتاہے کہ موسیٰ ؑ نے جب دونوں کو لڑتے دیکھا توموسیٰ ؑ خودبخود آگے نہیں بڑھے بلکہ پہلے ان کی قوم سے تعلق رکھنے والے فرد نے انہیں اپنی مدد کے لئے آواز دی۔اس پر موسیٰ ؑ بغیرادھر ادھر دیکھنے کے فوری طورپر اس کی مدد کے لئے پہنچ گئے اورآ پ نے مصری کو ایک گھونسہ مارا اورآپ کاکوئی ارادہ نہیں تھا کہ اسے قتل کریں مگر سوء اتفاق سے وہ کسی نازک مقام پر جالگااوراس کی موت واقع ہوگئی۔پس قرآن کریم حضرت موسیٰ علیہ السلام کو قتل عمد کے الزام سے بری ٹھہراتاہے مگربائیبل جو موسیٰ ؑ کوخدا کا نبی بھی قرا ردیتی ہے وہ بڑی دلیری سے کہتی ہے کہ موسیٰ ؑ نے جان بوجھ کر اس مصری کوقتل کیا۔پھر دوسرے دن جوواقع ہوااس میں بھی قرآن یہ کہتاہے کہ اس روز پھر وہی عبرانی اورایک مصری آپس میں لڑ رہے تھے مگربائیبل کہتی ہے کہ اس روز کسی مصری سے لڑائی نہیںہوئی۔بلکہ دوعبرانی آپس میں لڑرہے تھے۔حالانکہ اگر دونوں عبرانی تھے توموسیٰ ؑ کواس میں دخل دینے کی کیا ضرورت پیش آئی تھی۔موسیٰ ؑ کادخل دینابتاتاہے کہ پھر یہ جھگڑا ایک قومی سوال بن گیا تھا جس کے لئے انہیں دخل دیناپڑا۔اسی طرح بائیبل کہتی ہے کہ ’’ تب اس نے اسے جس کاقصور تھا کہا کہ تُو اپنے ساتھی کو کیوں مارتاہے۔‘‘ حالانکہ موسیٰ ؑ کوکس طرح پتہ لگ سکتاتھا کہ دونوں میں سے قصوروار کون ہے۔جب دونوں ان کی اپنی قوم کے افراد تھے اوردونوں آپس میں الجھ رہے تھے توموسیٰ ؑ کو یہ کس طرح پتہ لگ گیا کہ قصوروار کون ہے اورانہوں نے کس بناپر اسے ڈانٹناشروع کردیا۔یہ بات بتاتی ہے کہ بائیبل سے اس واقعہ کےبیان کرنے میں غلطی ہوئی ہے۔اصل واقعہ وہی تھا جس کا قرآن نے ذکر کیا ہے کہ اس روز بھی مصری قوم کے ایک فرد سے لڑائی ہورہی تھی۔مگر بائبیل جو انسانی دست بُرد کا شکار ہوچکی ہے اس میںیہ لڑائی دو عبرانیوں کی طرف منسوب کر دی گئی ہے۔انجیل نے بھی سچا واقعہ بیان کرنے کی بجائے موسیٰ ؑ کو ہی ملزم قرار دیا ہے۔چنانچہ لکھا ہے:۔’’پھر دوسرے دن وہ باہر گیا۔اور دیکھا کہ دو عبرانی آپس میں مار پیٹ کر رہے ہیں۔تب اُس نے اُسے جس کا قصور تھا کہا کہ تو اپنے ساتھی کو کیوں مارتا ہے؟اُس نے کہا۔تجھے کس نے ہم پر حاکم یا منصف مقرر کیا ؟کیا جس طرح تو نے اس مصری کومارڈالا مجھے بھی مار ڈالنا چاہتا ہے؟‘‘(خروج باب ۲آیت ۱۳, ۱۴)