تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 227
اسی طرح اعمالؔ میں لکھا ہے۔’’پھر دوسرے دن وہ ان میں سے دو لڑتے ہوؤں کے پاس آنکلا اور یہ کہہ کر انہیں صلح کرنے کی ترغیب دی کہ اے جوانو!تم تو بھائی بھائی ہوکیوں ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہو؟لیکن جو اپنے پڑوسی پر ظلم کررہاتھااُس نے یہ کہہ کر اُسے ہٹادیا کہ تجھے کس نے ہم پر حاکم اور قاضی مقرر کیا ؟کیا تو مجھے بھی قتل کرنا چاہتا ہے جس طرح کل اس مصری کو قتل کیا تھا؟ موسیٰ یہ بات سن کر بھاگ گیا اور مدیان کے ملک میں پردیسی رہا کیا۔اور وہاں اس کے دو بیٹے پیدا ہوئے۔‘‘ ( آیت ۲۶تا۲۹) مگر جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے قرآ ن کہتا ہے کہ یہ بات غلط ہے۔دوسرے دن بھی ایک مصری اور عبرانی ہی لڑ رہے تھے اور پھر یہ کہ وہی عبرانی لڑ رہا تھا جس سے کل جھگڑ ا ہوا تھا۔کوئی نیا عبرانی نہیں تھا۔یہی وجہ ہے کہ اس نے موسیٰ ؑ سے کہا کہ کیا تو چاہتا ہے کہ جس طرح تو نے کل اس مصری کو ماردیا تھااسی طرح آج مجھے مار ڈالے۔اگر کوئی اور عبرانی ہوتا تو اسے کل کے اس واقعہ کا کس طرح علم ہوسکتاتھا اور اسے کیونکر پتہ لگ سکتا تھا کہ کل جو واقعہ ہو ا تھا وہ موسیٰ ؑ کے ہاتھ سے ہی ہوا تھا۔یہ الفاظ جو توراۃ اور انجیل دونوں میں نقل کئے گئے ہیں خود اس بات کی اندرونی شہادت ہیں کہ یہ وہی شخص تھا جس نے کل لڑائی کی تھی کوئی نیا آدمی نہیں تھا۔اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ با ئیبل ایک طرف تو یہ کہتی ہے کہ موسیٰ ؑ نے جس آدمی کو مارا تھا۔اسے اس نے ریت میں چھپا دیا تھا۔جس کے معنے یہ ہیں کہ یہ معاملہ بالکل مخفی رہا۔مگر پھر وہی بائیبل یہ بیان کرنا شروع کردیتی ہے کہ دوسرے دن ایک اور عبرانی نے کہہ دیا کہ کیا تو مجھے بھی اسی طرح مارنا چاہتا ہے جس طرح تو نے کل ایک آدمی کو مار دیاتھا۔گویا یہ واقعہ تمام لوگوں میں مشہور ہوچکا تھا۔حالانکہ جس شخص کو نظروں سے بچا کر ریت میں چھپا دیا گیا ہو اس کی موت کا دوسروں کو علم ہی کیونکر ہوسکتا ہے۔اس کا علم تو صرف ایک شخص کو تھا پس یہ فقرہ لازماً اسی شخص کے منہ سے نکل سکتا تھا جس نے پہلے دن کے واقعہ کو دیکھا تھا ورنہ کوئی دوسرا شخص یہ بات نہیں کہہ سکتا تھا خصوصاً ایسی حالت میں جب کہ بائیبل کے نزدیک مقتول کو ریت میں چھپا دیا گیا تھا اور اس کا کسی کو علم نہیں ہوسکتا تھا۔چہارم:۔بائیبل کہتی ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام بھاگ کر مدین پہنچے تو ’’وہاں وہ ایک کنوئیں کے نزدیک بیٹھا تھا۔اور مدیان کے کاہن کی سات بیٹیاں تھیں وہ آئیں اور پانی بھر بھر کر گھڑوں میں ڈالنے لگیں تاکہ اپنے باپ کی بھیڑ بکریوں کو پلائیں۔اور گڈریے آکر